Book - حدیث 3905

كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَابُ رُؤْيَةِ النَّبِيِّ ﷺ فِي الْمَنَامِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ: قَالَ أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَمَّارٍ هُوَ الدُّهْنِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ، فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي»

ترجمہ Book - حدیث 3905

کتاب: خوابوں کی تعبیر سے متعلق آداب و احکام باب: خواب میں نبیﷺ کی زیارت حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے مجھے دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ 1۔بعض خواب اللہ تعالی کی طرف سے ہوتے ہیں جیسے اگلے باب میں آرہا ہے۔یہ خواب سچے ہوتے ہیں۔خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت بھی اسی قسم میں شامل ہے۔ 2۔رسول اللہ ﷺ کا حلیہ مبارک حدیث کی کتابوں میں مذکور ہے۔اگر رسول اللہ ﷺ کی زیارت اس حلیے کے مطابق ہوتو خواب سچا ہے تعبیر کی ضرورت نہیں۔اگر خواب میں حلیہ مبارک مختلف نظر آئے تو اس کی تعبیر کی جائے گی۔اور یہ سیکھنے والے کے دین و خلق میں نقص اور کوتاہی کا اظہار ہے۔(فتح الباري:٤٨٤/١٣) 3۔ شرعی مسائل خواب سے ثابت نہیں ہوتے ان کے لیے قرآن و حدیث کے دلائل ضروری ہے۔ 4۔بعض لوگ جھوٹ موٹ نبی ﷺ کی زیارت کا دعویٰ کردیتے ہیں حالانکہ انھیں ایسا کوئی خواب نہیں آیا ہوتا ۔یہ بہت بڑا گناہ اور نہایت سنگین جرم ہے۔(دیکھیے حدیث:3916)