Book - حدیث 3896

كِتَابُ تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَابُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ صحیح حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «ذَهَبَتِ النُّبُوَّةُ، وَبَقِيَتِ الْمُبَشِّرَاتُ»

ترجمہ Book - حدیث 3896

کتاب: خوابوں کی تعبیر سے متعلق آداب و احکام باب: مسلمان کا خود یا کسی اور کا اس کےلیے اچھا خواب دیکھنا حضرت ام کُرز کعبیہ ؓا سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نبوت ختم ہو گئی اور خوشخبری دینے والی چیزیں رہ گئیں، یعنی سچے خواب باقی ہیں۔ 1۔ہمارے نبیﷺ آخری نبی ہیں۔اس لئے نبوت سے براہ راست مستفید ہونا اب ممکن نہیں۔2۔سچے خوابوں کو مشبرات کہاگیا ہے۔کیونکہ ان کے زریعے سے اللہ تعالیٰ مومن کو کسی ملنے والی نعمت کی خبر دیتا ہے یا کسی آنے والی مصیبت سے متنبہ کردیتا ہے تاکہ انسان اس سے بچنے کی دعا اور تدبیر کرلے۔3۔اکثر خواب ایسے ہوتے ہیں جن کی تعبیر کی ضرورت ہوتی ہے۔البتہ بعض خواب جیسے نظر آتے ہیں۔بعد میں ویسا ہی واقعہ پیش آجاتا ہے جیسے نبی ﷺ نے خود کو صحابہ کے ساتھ عمرہ کرتے دیکھا تو اگلے سال اسی طرح عمرہ ادا کیا گیا۔