Book - حدیث 3884

كِتَابُ الدُّعَاءِ بَابُ مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أَزِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ»

ترجمہ Book - حدیث 3884

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل باب: گھر سے نکلتے وقت پڑھنے کی دعا ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ جب گھر سے باہر تشریف لے جاتے تو فرماتے تھے: (اللهم! اني اعوذبك ان اضل او ازل او اظلم او اظلم او اجهل او يجهل علي) یا اللہ! میں (اس بات سے) تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں گمراہ ہو جاؤں یا میں لغزش کا شکار ہو جاؤں، یا میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، یا میں کسی سے بدتمیزی کروں یا کوئی مجھ سے بدتمیزی سے پیش آئے۔ 1۔۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق اور بعض دیگر محقین نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔ جبکہ شیخ البانی اور دکتور بشارعواد نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔آخرالذکر دونوں شیوخ کو مذکورہ روایت کی تصیح میں وہم ہوا ہے۔حق اور راحج بات یہی ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ شعبی کا حضرت ام سلمہ @ سے سماع ثابت نہیں علاوہ ازیں مذکورہ باب کی باقی دو روایتیں بھی باتفاق محققین ضعیف ہیں۔بنا بریں گھر سے نکلتے وقت کی کوئی بھی مسنون دعا ہمارے علم میں نہیں ہے۔واللہ اعلم