Book - حدیث 3883

كِتَابُ الدُّعَاءِ بَابُ الدُّعَاءِ عِنْدَ الْكَرْبِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْكَرْبِ: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ، وَرَبِّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» قَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِيهَا كُلِّهَا

ترجمہ Book - حدیث 3883

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل باب : پریشانی کے وقت کی دعائیں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھا کرتے تھے: (لا اله الا الله الحليم الكريم سبحان الله رب العرش العظيم سبحان الله رب السموات السبع ورب العرش الكريم) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو نہایت بردبار اور بہت زیادہ سخی ہے۔ اللہ پاک جو عرش عظیم کا مالک ہے۔ اور اللہ پاک ہے جو سات آسمانوں کا مالک اور عزت والے عرش کا مالک ہے۔ (راوی حدیث) وکیع نے ایک مرتبہ (آخری دو جملوں میں سبحان اللہ کی بجائے لا اله الا الله بیان کیے ہیں جیسا کہ پہلے جملے میں ہیں، یعنی انہوں نے) ہر جملے کے ساتھ (لا اله الا الله) کے الفاظ بیان کیے ہیں۔ ۔مذکورہ بالا دعا دووسری روایت کے مطابق اسی طرح بھی پڑھی جاسکتی ہے۔(لا اله الا الله الحليم الكريم لا اله الا الله رب العرش العظیم لا اله الاا لله رب السموات السبع ورب العرش الكريم)صحيح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت سے بھی اس کی تایئد ہوتی ہے حوالے کے لئے دیکھئے تحقیق وتخریج حدیث ہذا۔2۔کسی بھی مصیبت او تکلیف کے وقت یہ دعا مانگی جائے تو اللہ تعالیٰ اس سے نجات دیتا ہے مثلا درد بیماری آگ لگ جائے یا پانی میں ڈوبنے کا خطرہ ہو یا کوئی اچانک حادثہ پیش آجائے تو یہ دعا پڑھنی چاہیے۔