Book - حدیث 3873

كِتَابُ الدُّعَاءِ بَابُ مَا يَدْعُو بِهِ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ»

ترجمہ Book - حدیث 3873

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل باب: بستر پر ( سونے کے لیے ) جاتے وقت کی دعا حضرت ابو ہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب بستر پر تشریف لے جاتے تو فرماتے: (اللهم! رب السموات ورب الارض... واغنني من الفقر) اے اللہ! اے آسمانوں اور زمین کے مالک! اور ہر چیز کے مالک! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے! اے تورات، انجیل اور قرآن عظیم کو نازل فرمانے والے! میں ہر اس جان دار کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے۔ تو ہی اول ہے، تجھ سے پہلے کچھ نہیں۔ تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں۔ تو ہی ظاہر ہے، تجھ سے اوپر کچھ نہیں۔ تو ہی باطن ہے، تجھ سے پوشیدہ تر کوئی چیز نہیں۔ مجھ سے میرا قرض ادا کر دے اور مجھے فقر سے (نجات دے کر) غنی کر دے۔ 1۔اللہ کی صفات کا زکر کرکے دعا کرنی چاہیے۔2۔اللہ تعالیٰ جسمانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔ اور بندوں کومادی رزق دینے کےلئے دانے اور گھٹلیاں پھاڑ کر فصلیں اور درخت اُگاتا ہے۔اور روحانی ضروریات بھی پوری کرتا ہے۔ اس مقصد کے لئے اس نے نبوت کا سلسلہ جاری فرما کر آسمانی کتابیں نازل کی ہیں۔3۔اس دعا میں قرض کی ادایئگی کےلئے اللہ کی صفت رزاقیت کا واسطہ دیا گیا ہے۔4۔ زمان ومکان اللہ کی مخلوق ہیں۔اس لئے وہ ان سب پر حاوی ہے۔ وہ زمان کے لہاظ سے اول وآخر ہے۔ اور مکان کے لہاظ سے تمام مخلوقات سے برتر(الظاہر) بھی ہے۔اور اپنی قدرت وعلم کے لہاظ سے قریب ترین (الباطن) بھی۔5۔فقر کے ساتھ اگر اللہ کی طرف توجہ اور عبادت میں انہماک ہو تو یہ محمود ہے۔ تاکہ دل مال ودولت میں مشغول ہوکر اللہ سے غافل نہ ہوجائے۔ لیکن اگر فقر وفاقہ اس حد تک پہنچ جائے۔ کہ بنیادی ضروریات بھی پوری نہ ہوں۔ اور بندہ پیٹ بھرنے کےلئے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجائے۔ یا مقروض ہوجائے جب کہ قرض کی ادایئگی کی کوئی اُمید نظر نہ آرہی ہو تو ایسا فقر مذموم ہے اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔