Book - حدیث 3869

كِتَابُ الدُّعَاءِ بَابُ مَا يَدْعُو بِهِ الرَّجُلُ إِذَا أَصْبَحَ وَإِذَا أَمْسَى صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُولُ فِي صَبَاحِ كُلِّ يَوْمٍ وَمَسَاءِ كُلِّ لَيْلَةٍ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَيَضُرَّهُ شَيْءٌ قَالَ وَكَانَ أَبَانُ قَدْ أَصَابَهُ طَرَفٌ مِنْ الْفَالِجِ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ أَبَانُ مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ أَمَا إِنَّ الْحَدِيثَ كَمَا قَدْ حَدَّثْتُكَ وَلَكِنِّي لَمْ أَقُلْهُ يَوْمَئِذٍ لِيُمْضِيَ اللَّهُ عَلَيَّ قَدَرَهُ

ترجمہ Book - حدیث 3869

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل باب: صبح و شام پڑھنے کی دعائیں حضرت ابان بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے سنا، وہ فر رہے تھے: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ فر رہے تھے: جو بندہ ہر دن کی صبح کو اور ہر رات کی شام کو تین بار یہ دعا پڑھے اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی: (بسم الله الذي لا يضر مع السمه شئي في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم) اللہ کے نام کے ذریعے سے (پناہ مانگتا ہوں) جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابان ؓ کے جسم پر فالج کا اثر تھا، چنانچہ (ان سے حدیث سننے والا) آدمی ان کی طرف (تعجب سے) دیکھنے لگا۔ حضرت ابان ؓ نے فرمایا: میری طرف کیا دیکھتے ہو؟ حدیث اسی طرح ہے جیسے میں نے تجھے سنائی ہے، لیکن اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی، اس طرح اللہ نے اپنا فیصلہ مجھ پر جاری فر دیا۔ 1۔نفع نقصان اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔لہذا اسی کے پاک نام کی برکت سے اسی کی پناہ حاصل کی جاتی ہے۔وہ ہر ایک کے حالات سے باخبر ہے۔ اور اس کی فریاد سننے پر بھی قادر ہے۔2۔مخلوق ک شر سے خاص طور پر دشمنوں کی سازشوں سے بچنے کے لئے خود ساختہ وضائف کے بجائے یہ مسنون اذکار پڑھنے چاہیں۔3۔اللہ سے اُمید رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کا خوف بھی رکھناچاہیے۔