Book - حدیث 384

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الْوُضُوءُ بِالنَّبِيذِ ضعیف حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ الْعَبْسِيِّ عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ لَيْلَةَ الْجِنِّ عِنْدَكَ طَهُورٌ قَالَ لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ نَبِيذٍ فِي إِدَاوَةٍ قَالَ تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ وَمَاءٌ طَهُورٌ فَتَوَضَّأَ هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ

ترجمہ Book - حدیث 384

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: نبیذ سے وضو کرنا سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنوں سے ملاقات والی رات ان سے فرمایا:’’ کیا تمہارے پاس وضو کا پانی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا: جی نہیں، بس چمڑے کے برتن میں تھوڑی سی نبیذ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ پاک کھجوریں ہیں اور پاک کرنے والا پانی ہے۔‘‘ پھر نبی ﷺ نے( اسی پانی سے) وضو کر لیا۔ یہ روایت وکیع کی ہے۔ 1)نبیذ عرب کا خاص مشروب ہے جو وہ خشک کھجور یا منقی پانی میں بھگوئےرکھنے سے تیار کرتے تھے جیسے ہمارے ہاں املی اور آلو بخارے سے شربت تیار کرتےہیں۔ 2۔ بعض علماء نے اس حدیث کی وجہ سے اس شربت( نبیذ) سے وضو کرنا جائز قرار دیا ہےلیکن یہ روایت چونکہ ضعیف ہے اس لیے اس سے استدلال صحیح نہیں۔امام ترمذی ؒ کے نزدیک بھی راجح یہی ہے کہ اگر کسی کے پاس پانی نہ ہو اور شربت ( نبیذ) موجود ہوتو وہ شربت سے وضو نہ کرے بلکہ تیمم کرے۔امام طحاوی ؒ نے بھی اس حدیث کی تمام سندوں کو ضعیف قرار دیکر یہ فیصلہ دیا ہے کہ نبیذ سی کسی حال میں وجو جائز نہیں ۔مزیس تفصیل کے لیے دیکھئے: (شرح معانی الاثار:1/57 58 وجامع الترمذی تحقیق احمد محمد شاکر حدیث:88) 3۔ جنوں والی رات سے مراد یہ واقعہ ہے کہ ایک رات کچھ مسلمان جن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ آپ جنوں کے اجتماع میں وعظ و نصیحت ارشاد فرمائیں اور انھیں دینی مسائل سے آگاہ کریں،چنانچہ نبی ﷺ ان کے ساتھ تشریف لے گئے اور جنوں کو وعظ ونصیحت ارشاد فرمائیں اور انھیں دینی مسائل سے آگاہ کریں،چنانچہ نبیﷺ ان کے ساتھ تشریف لے گئےاور جنوں کو وعظ ونصیحت فرمائی۔یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے