Book - حدیث 3831

كِتَابُ الدُّعَاءِ بَابُ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِﷺ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَتْ فَاطِمَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ لَهَا مَا عِنْدِي مَا أُعْطِيكِ فَرَجَعَتْ فَأَتَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ الَّذِي سَأَلْتِ أَحَبُّ إِلَيْكِ أَوْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ قُولِي لَا بَلْ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ فَقَالَتْ فَقَالَ قُولِي اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ الْعَظِيمِ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ

ترجمہ Book - حدیث 3831

کتاب: دعا سے متعلق احکام ومسائل باب: رسول اللہ ﷺ کی دعا حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے،انہوں نے فرمایا:حضرت فاطمہ ؓا نے نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر ایک خادمہ عطافرمانے کی درخواست کی تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: میرے پاس تو (غلام یا لونڈی )نہیں ہے جو تجھے دے سکوں۔ وہ واپس چلی گئیں۔بعد میں رسول اللہ ﷺ ان کے ہاں تشریف لے گئے اور فرمایا: کیا تجھے وہ چیز پسند ہے جو تونے مانگی تھی یا وہ جو اس سے بہتر ہے ؟ حضرت علی ؓ نےان سے کہا: کہو:نہیں، وہ چیز (مطلوب ہے)جو اس سے بہتر ہے۔حضرت فاطمہ ؓا نے یہی جواب دے دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوں کہاکر:[ اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السِّبۡعِ۔۔۔۔۔وَأَعۡنِنَامِنَ الۡفَقۡرِ] اے اللہ!اے ساتوں آسمانوں کے مالک !اے عرش عظیم کے مالک !اے ہمارے رباور ہر چیز کے رب!اے تورات،انجیل اور قرآن عظیم کے نازل کرنے والے !تو اوّل ہے ،تجھ سے پہلے کچھ نہیں تھا ۔تو آخر ہے ،تیرے بعد کچھ نہیں۔تو ظاہر ہے ،تجھ سے اوپر کچھ نہیں۔ توباطن (پاشیدہ) ہے،تجھ سے پوشیدہ تر کچھ نہیں۔ہمارا قرض عطافرمااور فقر سے (نجات دے کر)ہمیں غنی کردے۔ ۱ ۔ اللہ کا ذکر دنیا کے مال سے بہتر ہے۔ ۲۔ اللہ تعالیٰ اول وآخر ہے۔ وقت مخلوقا ت پر اثر انداز ہوتا ہے، خالق پر نہیں، اس کے لیے سب زمانے برابر ہیں۔ ۳۔ اللہ تعالیٰ سب سے بلند و بالا اور سب پر غالب ہے، اور اس کی قدرت مخلوق کے ہر ذرے پر محیط ہے اور علم و قدرت کے لحاظ سے وہ سب سے قریب ہے۔ ۳۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی صفات کے وسیلے سے دعا کرنی چاہیے۔۴۔ فقر و غنا اللہ کے ہاتھ میں ہے، لہذا قرض و فقر سے نجات کے لیے مسنون دعا کے ذریعے سے اللہ کی مدد حاصل کرنی چاہیے۔