Book - حدیث 3791

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ فَضْلِ الذِّكْرِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ يَشْهَدَانِ بِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا يَذْكُرُونَ اللَّهَ فِيهِ إِلَّا حَفَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَتَغَشَّتْهُمْ الرَّحْمَةُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ

ترجمہ Book - حدیث 3791

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل باب: اللہ کے ذکرکی فضیلت حضرت ابو ہریرہ اور حضرت سعید ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے بیٹھتے ہیں ، انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان پر رحمت چھا جاتی ہے ، اور ان پر سکینت نازل ہوتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ان(فرشتوں)میں فرماتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں۔ ۱ ۔ ذکر کےلیے بیٹھنے والوں سے مراد مسنوں انداز سے ذکر کرنے والے ہیں ، مثلاَ َ: نماز سے فارغ ہو کر مسنون اذکار میں مشغول افراد یا وعظ ودرس قرآن و حدیث کی مجلس یا آپس میں اللہ کی نعمتوں کا ذکر تا کہ دل میں شکر کا جذبہ پیدا ہو۔ ۲۔ خود ساختہ الفاظ کے ساتھ ، خود ساختہ طریقں سے ذکر کرنا خلاف سنت ہے، جیسے روشنیاں بجھا کر اجتماعی طور پر ذکر کرنا، بالخصوص الفاظ کی ضربیں لگانا، یا ایسی دعاؤں کو اہمیت دیان جو نبی ﷺ سے منقول نہیں ، مثلاَ َ: درود تاج ، درود ماہی کیفیت ہیکل، شش قفل وغیرہ۔ ایسی چیزوں سے ثواب کی بجائے گناہ کا اندیشہ ہے۔ ۳۔فرشتے نیکی کی مجلس میں شریک ہوتے ہیں۔۴۔ سکینت سے مراد دل میں اطمینان و سکون اور خوشی کی خاص کیفیت ہے جو ذکر کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ ۵۔ فرشتوں میں ذکر فرمانے کا مقصد اس عمل پر خوشنودی کا اظہار ہے۔