Book - حدیث 3698

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ رَدِّ السَّلَامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنْ الْيَهُودِ فَقَالُوا السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ وَعَلَيْكُمْ

ترجمہ Book - حدیث 3698

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل باب: ذمیوں کو سلام کا جواب دینا ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ کچھ یہودی نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا:[اَلسَّامُ عَلَیۡکَ یَا أَبَا الۡقَاسِمِ] ابوالقاسم!آپ پر سام ہو، یعنی موت ہو۔ نبی ﷺ نے فرمایا:[وَعَلَیۡکُمۡ] تم پر بھی۔ ۱۔ اہل کتاب سے مراد یہودی اور عیسائی ہیں ۔ ہندو سکھ اور مرزائی وغیرہ اہل کتاب میں شامل نہیں۔ ۲۔ یہ رسول اللہ ﷺ کا تحمل تھا کہ غصہ دلانے والی حرکت پر بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھا اور بہتر ین مناست جواب دیا۔ ۳۔ اہل کتا ب کو وعليكم السلام کے بجائے وعليكم کہنے میں یہی حکمت ہےکہ وہ لوگ شرارت سے کام لیتے تھے اور غلط الفاظ بولتے تھے۔ آج کل کے عام غیر مسلم عربی زبان کی ان باریکیوں سے ناواقت ہیں اور صاف الفاظ میں السلام عليكم کہتے ہیں۔اس لیے انہیں وعليكم السلام کہنے میں حرج نہیں تاہم اگر انہیں بھی وعليكم ہی کہہ دیا جائے تو جائز ہے۔ ۴۔ ذمی سے مراد مسلمان سلطنت کے غیر مسلم باشندے ہیں۔