Book - حدیث 3672

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ حَقِّ الْجِوَارِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ

ترجمہ Book - حدیث 3672

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل باب: ہمسائیگی کا حق حضرت ابو شریح خزاعی ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرے ۔جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اپنے مہمان کی عزت کرے ۔جو شخص اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے ۔ ۱۔نیک اعمال انجام دینا ایمان کا تقاضا ہے۔ ۲۔ پڑوسی کے ساتھ عام طور پر واسطہ پڑنے کی وجہ سے اختلاف پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں، لہذا اس کے ساتھ حسن سلوک کا زیادہ اہتمام ہونا چاہیے تاکہ لڑائی جھگڑا نہ ہو۔ ۳۔کاروبار میں شراکت رکھنے ولا، بازار میں قریب کا دکاندار ، تعلیمی ادارے میں ہم مکتب یا ہم جماعت ، ہو سٹل میںہم کمرہ یا اس عمارت میں رہائش پذیر طالب علم، ایک ہی کارخانے میں کام کرنے والے کارکن اور اس قسم کے دوسرے افراد بھی پڑوسی کے حکم میں ہیں۔ ۴۔مہمان کی عزت کا مطلب اس کے لیے معمول سے بہتر کھانا تیار کرنا، اس کےآرام و راحت کا خیال رکھنا ، اس کی آمد پر ناگوار ی کا اظہار نہ کرنا اور اس قسم کے دوسرے امور ہیں۔ ۵۔ بے سوچے سمجھے بات کرنے سے گناہ کی بات منہ سے نکل جاتی ہے، یا ایسی بات کہی جاتی ہے جس سے انسان بعد میں شرمندہ ہو تا ہے، اس لیے غیر ضروری گپ شپ سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ۶۔زبان کی حفاظت کے نتیجے میں ذکر وتلاو ت وغیرہ کی طرف زیادہ توجہ ہوتی ہے اور نیکیاں زیادہ ہوتی ہیں۔