Book - حدیث 3667

كِتَابُ الْأَدَبِ بَابُ بِرِّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ ضعیف حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ

ترجمہ Book - حدیث 3667

کتاب: اخلاق وآداب سے متعلق احکام ومسائل باب: والد کے ( اولاد سے اور خاص طور پر ) بیٹیوں سے حسن سلوک کا بیان حضرت سراقہ بن مالک ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے افضل صدقہ نہ بتاؤ؟تیری بیٹی جو (بیوہ ہوکر طلاق ہوجانے کی وجہ سے)تیرے پاس واپس آجائے ، اور تیرے سوا اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔(اس کے اخراجات برداشت کرنا افضل صدقہ ہے) ۱۔ مذکورہ روایت تقریباَ َ تمام محققین کے نزدیک ضعیف ہے، تاہم حدیث میں بیان کردہ مسئلے کی دیگر روایات کے عمومات سے تائید ہوتی ہے۔مرید تفصیل کے لیے دیکھیے۔:(الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد:29/125-126)بنا بریں بیٹی کی شادی کردینے کے بعد اس کے اخراجات والد کے ذمے ہیں۔ ۳۔ بیٹی اور اس کے کم سن بچوں پر خرچ کرنا بہت ثواب کا باعث ہے۔ ۴۔ بہن ، بھانجی اور بھتیجی پر خرچ کرنا بھی اسی طرح ثواب کا کام ہے۔ ۵۔ بیوہ اگر رشتے دار نہ بھی ہو تو نادار ہونے کی صورت مین اس کا اور اس کے یتیم بچوں کا خیال رکھنا بڑی نیکی ہے۔