Book - حدیث 363

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ غَسْلِ الْإِنَاءِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي رَزِينٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَضْرِبُ جَبْهَتَهُ بِيَدِهِ وَيَقُولُ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ أَنْتُمْ تَزْعُمُونَ أَنِّي أَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكُونَ لَكُمْ الْمَهْنَأُ وَعَلَيَّ الْإِثْمُ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ

ترجمہ Book - حدیث 363

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: برتن میں کتامنہ ڈال دے تو اسے دھوناچاہیے جناب ابو زرین ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا:میں نے ابو ہریرہ ؓ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشانی پر ہاتھ مارا اور کہا: اے عراق والو! تمہارا یہ خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ بول رہا ہوں؟( اس کا نتیجہ یہ ہوگا) کہ تمہیں فائدہ حاصل ہو جائے اور مجھے گناہ ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے:’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتنا منہ ڈال دے تو اسے چاہیے کہ اس( برتن کو سا ت بار دھوئے۔‘‘ 1۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کتے کا منہاور اس کا لعاب پاک ہے جس سے پانی بھی ناپاک ہوجاتا ہےاوربرتن بھی،اس لیے حکم ہے کہ جس پانی میں کتا منہ ڈالے اسے گرادیا جائے۔دیکھیے: (صحيح مسلم الطهاره باب حكم ولوغ الكلب حديث:٢٧٩) 2۔جس برتن میں کتا منی ڈالے اسے سات بار دھونا ضروری ہے 3۔اس کےعلاوہ اس برتن کو ایک مرتبہ مٹی سے مانجھنا بھی ضروری ہے۔جیسے کہ صحیح حدیث کے مذکورہ بالا باب میں مذکور احادیث میں صراحت ہے۔مٹی کا استعمال شروع میں بھی ہوسکتا ہے اور آخر میں بھی کونکہ ایک روایت میں ہے کہ (اولاهن بالتراب) پہلی بار مٹی سے مل کر دھوؤ۔ اور ایک روایت میں ہے: (عفروه الثامنة بالتراب) اس کو آٹھویں بار مٹی سے مل کر دھوؤ۔ سات بار پانی سے دھونے کے ساتھ جب ایک بار مٹی استعمال کی جائے گیتو یہ مٹی کا استعمال گویا آٹھویں بار دھونا ہے۔ 4۔کتے کے لعاب میں باؤلا پن کے جراثیم ہوتے ہیںجو ایک بار دھونے سے ختم نہیں ہوتے۔اس کے علاوہ مٹی میں جراثیم کش خاصیت پائی جاتی ہے،اس لیے شریعت نے کتے کے جوٹھے کے بارے میں خاص طور پر یہ حکم دیا ہے دوسرے جانوروں کے بارے میں نہیں دیا۔ 5۔حضرت ابو ہریرہ کا پیشانی میں ہاتھ مارناافسوس اور تعجب کے لیے ہےکہ تم لوگوں کو میری بات پر یقین کیوں نہیں آتا؟معلوم ہوتا ہے کہ اہل عراق میں شروع سے قابل احترام ہستیوں کا احترام کم تھا،اس لیے وہ مدینہ سے مقرر ہو کر جانے والے گورنروں پر بھی بے جا تنقید کرتے رہتے تھےاور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ کو دارالحکومت بنایا تو انھیں بھی پریشان کرتے رہے۔عراق ہی سے خوارج کا فتنہ شروع ہوا اور یہیں معتزلہ فرقہ پیدا ہوا۔ 6۔یہ روایت ہمارے محقق کے نزدیک سنداً ضعیف ہے جبکہ دیگر بہت سے محققین کے نزدیک صحیح ہے۔