Book - حدیث 3605

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ الْبَسْ مَا شِئْتَ مَا أَخْطَأَكَ سَرَفٌ أَوْ مَخِيلَةٌ حسن حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا مَا لَمْ يُخَالِطْهُ إِسْرَافٌ أَوْ مَخِيلَةٌ

ترجمہ Book - حدیث 3605

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل باب: ہر وہ لباس پہن سکتے ہو جس سے اسراف اور تکبر نہ ہو حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص سے روایت ہے ، رسول اللہﷺ نے فرمایا: کھاؤ،پیو،صدقہ کرو اور پہنو، جب تک اس میں فضول خرچی یا تکبر کی آمیزش نہ ہو۔ ۱۔ اسلام ترک دنیا اور رہبانیت کی دعوت نہیں دیتا بلکہ کمائی اور خرچ کی ناجائز راہوں سے روکتا ہے۔ ۲۔ اپنی ذات پر بیوی بچوں پر والدین اور عزیز و اقارب پر خرچ کرنا اور ان کی جائز ضروریات پوری کرنا نیکی ہے۔ 3۔ اسراف اور فضول خرچی کا مطلب جائز مقام پر ناجائز حد تک خرچ کرنا ہے۔سادگی مسلمان کی شان ہے۔ ۴۔ ناجائز مقام پر تھوڑا خرچ بھی گناہ ہے اور تبذیز میں شامل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِنَّ المُبَذِّر‌ينَ كانوا إِخوانَ الشَّياطينِ ۖ وَكانَ الشَّيطانُ لِرَ‌بِّهِ كَفورً‌ا ﴾(بنی اسرائیل ۱۷ :۲۷)بے شک بے جا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔اور شیطان اپنے رب کی بہت زیادہ نا شکری کرنے والا ہے۔ ۵۔ تھوڑے مہمانوں کے لئے بہت زیادہ کھانے تیار کر لینا اور پھر انہیں ضائع کردینا بھی تبذیز میں شامل ہے۔ اسی طرح اپنا مال وقت ضائع کرنے والی بے فائدہ تفریح پر خرچ کرنا بھی اس میں شامل ہے۔ ۶۔ اسراف و تبذیز عام طور پر دوسروں پر برتری کے اظہار کے لئے کیا جاتا ہے جو خود ایک گناہ ہے۔ ایسی چیزوں پر خرچ ہونے والی رقم سے غریبوں کی مدد کی جائے تو دنیوی اور اخروی فوائد حاصل ہوں گے ۷۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداَ َ ضعیف قرار دیا ہے۔ وہ اس کی بابت لکھتے ہیں کہ مذکورہ روایت کو امام بخاری نے بھی کتاب اللباس سے پہلے معلق بیان کیا ہے مزید لکھتے ہیں کہ اس کے تخلیق التعلیق وغیرہ میں موقوف شواہد موجود ہیں لہذا اس بات سے اور دیگر محققیق کی بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداَ َضعیف ہونے کے باوجود قابل عمل ہے۔مزید تفصیل کے لئے دیکھیے۔((الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد : 11/94-95 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم : 3605 ،وهداية الرواة:4/217-218)