Book - حدیث 3591

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ كَرَاهِيَةِ لُبْسِ الْحَرِيرِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ مِنْ حَرِيرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ ابْتَعْتَ هَذِهِ الْحُلَّةَ لِلْوَفْدِ وَلِيَوْمِ الْجُمُعَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ

ترجمہ Book - حدیث 3591

کتاب: لباس سے متعلق احکام ومسائل باب: ریشم (کا لباس) پہننا بری بات ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے لکیر دار ریشمی کپڑے کا جوڑا دیکھا تو عرض کیا:اے اللہ کے رسول!آپ یہ جوڑا وفود کے استقبال اور جمعہ کے دن پہننے کے لئے خرید لیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے تو وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ۱۔ (حله) ایک طرح کے دو کپڑوں کو کہتے ہیں ایک جسم کے اوپر کے حصے پر پہننے یا اوڑھنے کے لیے دوسرا جسم کے زیریں حصے پر پہننے کے لیے جیسے تہ بند وغیرہ اس لئے اس کا ترجمہ جوڑا کیا گیا ہے۔ ۲۔ جمعہ اور عید وغیرہ کے موقع پر عمدہ لباس پہننا مستحب ہے اس لئے حضرت عمر  نے مشورہ دیا ۔ ۳۔ مہمانوں کے استقبال کے موقع پر عمدہ لباس پہننا مستحسن ہے۔ ۴۔ صحابہ کرام ؓ نبی ﷺسے بہت محبت رکھتے تھے اس لئے آپ کے لئے عمدہ چیزیں پسند کرتے تھے۔ ۵۔کوئی شخص خلوص اور محبت سے مشورہ دے اور وہ مشورہ درست نہ ہو تو سختی سے رد کرنے کے بجائے اس کی غلطی وضح کر دی جائے تاکہ اسے رنج نہ ہو اور آئندہ اس غلطی سے بچ سکے۔ ۶۔آخرت میں حصہ نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ لبال کافر پہنتے ہیں جنہیں آخرت میں کوئی بھلائی نصیب نہیں ہوگی۔