Book - حدیث 3532

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ النُّشْرَةِ ضعیف حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّ جُنْدُبٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَبِعَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمٍ، وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ بَلَاءٌ لَا يَتَكَلَّمُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا ابْنِي وَبَقِيَّةُ أَهْلِي، وَإِنَّ بِهِ بَلَاءً لَا يَتَكَلَّمُ فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ» ، فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَغَسَلَ يَدَيْهِ وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ أَعْطَاهَا، فَقَالَ: «اسْقِيهِ مِنْهُ، وَصُبِّي عَلَيْهِ مِنْهُ، وَاسْتَشْفِي اللَّهَ لَهُ» . قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ: لَوْ وَهَبْتِ لِي مِنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا هُوَ لِهَذَا الْمُبْتَلَى، قَالَتْ: فَلَقِيتُ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحَوْلِ فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْغُلَامِ، فَقَالَتْ: بَرَأَ وَعَقَلَ عَقْلًا لَيْسَ كَعُقُولِ النَّاسِ

ترجمہ Book - حدیث 3532

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: آسیب (اور جن) کے اثر کا علاج حضرت ام جندب ؓا سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا: میں نے قربانی کے دن رسو ل اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے وادی کے نشیبی حصے میں کھڑے ہو کر بڑے جمرے پر کنکریاں ماریں ، پھر واپس ہوئے ۔قبیلہ خشعم کی خاتون آپ کے پیچھے چل پڑی ۔ اس کے پاس ایک بچہ تھا جسے آپ کی شکایت تھی اور وہ بات نہیں کرتا تھا ۔ اس خاتون نےعرض کی : اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے اور میرے گھر میں یہی باقی بچا ہے اور اسے آسیب ہے ، یہ کلام نہیں کرتا ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرے پاس تھوڑا سا پانی لاؤ ۔‘‘ پانی لایا گیا ۔ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ دھوئے اور کلی کی ، پھر ( یہ مستعمل پانی ) اسے دے دیا اور فرمایا،:’’کچھ پانی اسے پلادینا ،کچھ اس کے اوپر ڈال دینا ، اور اس کےلیےاللہ سے شفا کی دعا کرنا ۔‘‘ام جندب ؓا نے فرمایا: میں اس عورت سے ملی اورکہا :اس میں سے تھوڑا سا (متبرک پانی مجھے بھی دے دو ۔ اس نے کہا : یہ تو اس بیمار کے لیےہے ۔ام جندب نے فرمایا: ایک سال بعد اس عورت سے میری ملاقات ہوگئی تو میں نے اس لڑکے کےبارہ میں پوچھا ۔ اس نے کہا : وہ صحت یاب ہوگیا ہے او رایسا عقل مند ہوگیاہے جو (عام )لوگوں کی طرح نہیں (بلکہ ان سےبڑھ کر عقل مند ہوگیا ہے ۔)