Book - حدیث 3530

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ تَعْلِيقِ التَّمَائِمِ صحیح حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بِشْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ أُخْتِ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ قَالَتْ: كَانَتْ عَجُوزٌ تَدْخُلُ عَلَيْنَا تَرْقِي مِنَ الْحُمْرَةِ، وَكَانَ لَنَا سَرِيرٌ طَوِيلُ الْقَوَائِمِ، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ تَنَحْنَحَ وَصَوَّتَ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَلَمَّا سَمِعَتْ صَوْتَهُ احْتَجَبَتْ مِنْهُ، فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى جَانِبِي فَمَسَّنِي فَوَجَدَ مَسَّ خَيْطٍ فَقَالَ: مَا هَذَا؟ فَقُلْتُ: رُقًى لِي فِيهِ مِنَ الْحُمْرَةِ فَجَذَبَهُ وَقَطَعَهُ فَرَمَى بِهِ وَقَالَ: لَقَدْ أَصْبَحَ آلُ عَبْدِ اللَّهِ أَغْنِيَاءَ عَنِ الشِّرْكِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرُّقَى، وَالتَّمَائِمَ، وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ» ، قُلْتُ: فَإِنِّي خَرَجْتُ يَوْمًا فَأَبْصَرَنِي فُلَانٌ، فَدَمَعَتْ عَيْنِي الَّتِي تَلِيهِ، فَإِذَا رَقَيْتُهَا سَكَنَتْ دَمْعَتُهَا، وَإِذَا تَرَكْتُهَا دَمَعَتْ، قَالَ: ذَاكِ الشَّيْطَانُ، إِذَا أَطَعْتِهِ تَرَكَكِ، وَإِذَا عَصَيْتِهِ طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي عَيْنِكِ، وَلَكِنْ لَوْ فَعَلْتِ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَيْرًا لَكِ، وَأَجْدَرَ أَنْ تُشْفَيْنَ تَنْضَحِينَ فِي عَيْنِكِ الْمَاءَ وَتَقُولِينَ: «أَذْهِبِ الْبَاسْ رَبَّ النَّاسْ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا»

ترجمہ Book - حدیث 3530

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: تعویذ وغیرہ ڈالنا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ حضرت زینت (بنت معاویہ ثقفیہ )ؓاسےروایت ہے ،انہوں نے فرمایا:ہماؤے ہاں ایک بڑھیا آیاکرتی تھی ۔ وہ سرخ باد کادم کیاکرتی تھی ۔ اورہمارےپاس لمبے پایوں والی ایک چار پائی تھی ۔ حضرت عبداللہ جب گھر میں داخل ہوتے تو (پہلے)کھانستے اور آواز دیتے (پھر اندر داخل ہوتے ۔ ) ایک دن وہ تشریف لائے۔ جب اس (بڑھیا)نے ان کی آوازسنی تو ان سے پردہ کرلیا۔ وہ آکر میرےپاس بیٹھ گئے ۔انہوں نےمجھےہاتھ لگایا تو انہیں دھاگا محسوس ہوا (جو میں نے گلے میں ڈالا ہوا تھا ۔) انہوں نےکہا : یہ کیاہے ؟ میں نےکہا ، اس میں مجھےسرخ بام کا دم کرکے دیا گیا ہے ۔انہوں نے اسے کھینچ لیا اور توڑ کر پھینک دیا۔ اور فرمایا:عبداللہ کے گھر والوں کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے :’’دم جھاڑ ،تعوذ اور حب کا عمل (یہ سب )شرک ہیں ۔‘‘ میں نے کہا : میں ایک دن (گھر سے)نکلی تو فلان شخص نے مجھےدیکھ لیا۔میری جو آنکھ اس کی طرف تھی ،اس سے پانی بہنے لگا ۔جب میں دم کرواتی تو پانی رک جاتا ، جب میں (دم کرائےبغیر ) چھوڑ دیتی تو اس سے پانی بہنےلگتا۔انہوں نے کا:وہ شیطان تھا ،جب تو اس کی مرضی کا کام کرتی تھی ،وہ تجھے چھوڑ دیتا ،جب اس کی مرضی کے خلاف کرتی ،وہ تیری آنکھ میں انگلی ماردیتا ۔ لیکن اگر تو وہ کام کرتی جو اللہ کےرسول ﷺ نے کیا تھا توتیرےلیے بہتر ہوتا اور تجھے ضرور شفامل جاتی ۔تو اپنی آنکھ پر پانی کےچھینٹے مار اور کہہ«أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا)) بیماری دور کردے ،اے لوگوں کےرب ! اور شفا دے دے ۔ تو ہی شفا دینے والاہے ۔تیری شفا کے سوا کوئی شفا نہیں ،ایسی شفا دےکہ بیماری کو بالکل باقی نہ رہے ۔‘‘ 1۔مریض پرقرآن کی آیات یا مسنون دعایئں پڑھ کردم کرنا درست ہے۔جبکہ شرکیہ دم حرام ہے ۔2۔عورتیں عورتوں کو دم کرسکتی ہیں۔3۔مرد کو اپنے گھر میں آتے وقت بھی آواز دے کر یا کھانس کر یا سلام کرکے آناچاہیے۔تاکہ اگر کوئی غیر محرم عورت کسی کام سے آئی ہوئی ہو تو وہ پردہ کرلے۔4۔بوڑھی عورتوں کو بھی پردہ کرنا چاہیے۔لیکن زیادہ بوڑھی عورتیں جن کی جسمانی کشش ختم ہوچکی ہو اگر انھوں نے زیب وزینت نہ کی ہوئی ہوتو ان کے لئے پردہ نہ کرناجائز ہے۔(سورہ نور؛60)5۔دھاگے پر دم کرکے گلےمیں ڈالنا یا بازو اور کمر وغیرہ پر باندھنا منع ہے۔6۔گلے میں پڑا ہوادھاگا یا تعویز وغیرہ اتار کر پھینک دینا مقدس کلام کی توہین نہیں بلکہ غلط کام پر ناراضی کا اظہار ہے۔7۔تولہ۔(حب کا عمل) ایک قسم کا جادو ٹونہ ہے۔جاہلیت میں عربوں کا خیال تھا کہ اس کے نتیجے میں خاوند کے دل میں بیوی کی محبت پیدا ہوجاتی ہے۔8۔خاوند کے دل میں محبت پیدا کرنے کےلئے ٹوٹے ٹونکوں کی بجائے اس کی اطاعت اس کا احترام اس کی خدمت اور اس سے محبت کا اظہار بہتر عمل ہے۔9۔بعض اوقات شرکیہ ٹوٹکوں سے بظا ہر فائدہ معلوم ہوتا ہے۔یہ اصل میں شیطانی اثر ہوتا ہے۔تاکہ لوگوں کااعتقاد ایسے کاموں پر پختہ ہوجائے۔10۔صاف پانی آنکھ کی صفائی کےلئے اچھی چیز ہے۔تاہم آنکھ میں چھینٹے زور س نہیں مارنے چاہیں۔11۔نظر بد کا اثر بھی شیطانی اثر ہے۔جس کاعلاج اللہ سے دعا اور مسنون دم ہے۔12۔مذکورہ روایت کو ہمارےمحقق نے ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اور اس کے شواہد وغیرہ زکر کیے ہیں۔نیز اس پر خاصی طویل بحث کی ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سندا ضعیف ہونے ک باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔واللہ اعلم۔مذید تفصیل کے لئے دیکھئے۔(الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد:6 /110۔113) والصحیحۃ للبانی رقم:331۔وسنن ان ماجہ بتحقیق محمود محمد محمود حسن نصار رقم :3530)12۔خمرہ ایک جلدی بیماری ہے۔ جس میں جائے مرض کے سرخ ہونے کے علاوہ بخار تیز ہوجاتا ہے۔بعض حضرات نے اس سے خسرہ وغیرہ کی بیماری مراد لی ہے۔واللہ اعلم۔