Book - حدیث 3521

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ مَا عَوَّذَ بِهِ النَّبِيُّ ﷺ وَمَا عُوِّذَ بِهِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِلْمَرِيضِ بِبُزَاقِهِ بِإِصْبَعِهِ «بِسْمِ اللَّهِ، تُرْبَةُ أَرْضِنَا، بِرِيقَةِ بَعْضِنَا، لِيُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا»

ترجمہ Book - حدیث 3521

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: نبیﷺ نے جو دم کیا اور جو دم آپؐ کو کیا گیا حضرت عائشہ ؓاسےروایت ہے کہ نبی ﷺ مریض کی شفا یابی کے لیے انگلی پر لعاب دہن لگا کر یوں کہتے تھے : «بِسْمِ اللَّهِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا)) اللہ کے نام سے ،ہماری زمین کی مٹی ،ہم میں سےبعض کےلعاب دہن سے مل کر ،ہمارے رب کےحکم سے ،ہمارے مریض کی شفا یابی کا ذریعہ ہوگی ۔‘‘ 1۔مدینے کی مٹی اور رسول اللہ ﷺ کا لعاب دہن دونوں کو خاص شرف حاصل ہے تاہم سنت پر عمل کرنے کی نیت سے جو شخص بھی اس طرح کرے گا۔ان شاء اللہ مریض کو شفا ہوگی۔2۔حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔ تھوک اور مٹی تو ظاہری اسباب ہیں۔جنھیں اختیار کرنے کا حکم ہے۔ان میں تاثیر شفا کا پیدا ہوجانا باذن اللہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ دم مسنو ن ہے۔اس میں اصل تاثیر باذن ربنا کے لفظ کی ہے۔مومن کے منہ کا لعاب اور مٹی خواہ کسی سر زمین کی ہو اس شفا بخشی کا ایک حصہ ہیں۔اور تجربے سے اس دم کا بے حد مؤثر ہونا ثابت ہے۔ (ریاض الصالحین حدیث:901)