Book - حدیث 3505

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ يَقَعُ الذُّبَابُ فِي الْإِنَاءِ صحیح حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِكُمْ، فَلْيَغْمِسْهُ فِيهِ، ثُمَّ لِيَطْرَحْهُ، فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً، وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً»

ترجمہ Book - حدیث 3505

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: برتن میں مکھی گر جائے تو؟ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے ،نبی ﷺ نے فرمایا:’’جب تمہارے (کسی) کے مشروب میں مکھی گر پڑے تو اسے چاہیے کہ اس میں ڈبو دے ، پھر(باہر نکل کر ) پھینک دے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے ۔‘‘ 1۔مکھی جب پانی دودھ چائے وغیرہ میں گر پڑے تو کھانے پینے کی چیز کو ضائع کردینا جائز نہیں3۔اللہ تعالیٰ نے مکھی کے ایک پر میں جراثیم کش مادہ بھی رکھا ہوا ہے۔ جو متعدد بیماریوں کے جراثیم کو ختم کرنے کی قوی صلاحیت رکھتا ہے۔جب مکھی کو جس چیز میں وہ گری ہے۔اس میں ڈبویاجائے تو وہ جراثم کش مادہ مکھی کے پر سے نکل کر اس چیز میں شامل ہوجاتا ہے۔4۔اللہ تعالیٰ نے بہت سی بیماریوں کا علاج ان کے اسباب کے قریب کردیا ہے۔جیسے علاقائی بیماریوں کا علاج انھیں علاقوں کی جڑی بوٹیوں میں موجود ہوتا ہے۔یہ انسانوں پر اللہ کی خاص رحمت ہے۔5۔جدید تحقیقات سے حدیثوں میں مذکور حقائق کی تصدیق رسول اللہﷺکی نبوت کی دلیل بھی ہے۔اور احادیث کے قابل اعتماد ہونے کا ثبوت بھی۔