Book - حدیث 3477

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ الْحِجَامَةُ صحیح حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي، بِمَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَّا كُلُّهُمْ يَقُولُ لِي: عَلَيْكَ، يَا مُحَمَّدُ بِالْحِجَامَةِ

ترجمہ Book - حدیث 3477

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: سینگی لگوانے کا بیان حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس رات مجھے سیر کرائی گئی (اورمعراج ہوئی ) ،میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سےگزرا ، وہ سب مجھے یہی کہتے رہے : حضرت محمد ﷺ سینگی لگوایا کریں ۔‘‘ 1۔مذکورہ روایت کو ہمارے محقق نے اوردیگر محققین نے بھی سندا ضعیف قرار دیا ہے۔لیکن کچھ محققین نے طویل بحث کے بعد دیگر شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔محققین کی بحث کو مد نظر رکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے۔کہ اس میں اور اس کے دیگر شواہد میں اس قدر ضعف نہیں ہے۔کہ اس روایت کو ضعیف قرار دے دیاجائے۔ہمارے فہم کے مطابق مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت بن جاتی ہے۔واللہ اعلم۔مذید تفصیل کے لئے دیکھئے۔(الموسوعۃ الحدیثۃ مسندالامام احمد :5/340۔341۔والصحیحۃ للبانی رقم:2263 وسنن ابن ماجہ بتحقیق الدکتور بشار عواد رقم :3477) فرشتے اللہ کے حکم کے بغیر اپنی رائے اور مرضی سے کوئی کام نہیں کرتے۔لہذا یہ علاج فرشتوں کاتجویز کیا ہوا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کاتجویز کیا ہوا ہے۔3۔ایک چیز کابار بار دہرایا جانا تاکید کےلئے ہے۔