Book - حدیث 3468

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ دَوَاءِ ذَاتِ الْجَنْبِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، وَابْنُ سَمْعَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالْعُودِ الْهِنْدِيِّ، يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ» قَالَ ابْنُ سَمْعَانَ: فِي الْحَدِيثِ: فَإِنَّ فِيهِ شِفَاءً مِنْ سَبْعَةِ أَدْوَاءٍ، مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ

ترجمہ Book - حدیث 3468

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: ذات الجنب کا علاج حضرت ام قیس (آمنہ ) بنت محصن ؓا سےروایت ہے ،رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’عود ہندی (علاج کے لیے ) اختیار کرو اس میں سات شفائیں ہیں (سات امراض کی شفاہے ) ان میں سے ایک (بیماری ) ذابت الجنب ہے ۔ ابن سمعان نے اپنی روایت میں بیان کیاہے کہ عود ہندی میں سات بیمایوں کی شفا ہے ۔ ان میں سے ایک (بیماری ) ذات الجنب ہے 1۔قسط کست اور عود ہندی ایک ہی دوا کے مختلف نام ہیں۔2۔اس دوا کو مختلف امراض میں مختلف انداز سے استعمال کیا جاتا ہے۔3۔ذات الجنب ایک بیماری ہے۔ جو اندرونی ورم کی وجہ سے پسلی کے قریب درد کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔4۔علامہ زہیر شاویش بیان کرتے ہیں کہ یہ ایک بڑا پھوڑا ہوتاہے۔جو پہلو میں اندر کی طرف ظاہر ہوتا ہے۔اور اندر ہی پھٹ جاتاہے۔ اس کامریض کم ہی جانبر ہوتا ہے۔(حاشیہ ضعیف ابن ماجہ)