Book - حدیث 3444

كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ لَا تُكْرِهُوا الْمَرِيضَ عَلَى الطَّعَامِ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُكْرِهُوا مَرْضَاكُمْ عَلَى الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، فَإِنَّ اللَّهَ يُطْعِمُهُمْ وَيَسْقِيهِمْ»

ترجمہ Book - حدیث 3444

کتاب: طب سے متعلق احکام ومسائل باب: بیمار کو کھانا کھانے پر مجبور نہ کریں حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ اپنے مریضوں کو کھانے پینے پر مجبور نہ کیا کرو ، انہیں اللہ تعالی کھلاتا اور پلاتا ہے ۔‘‘ 1۔مذکور روایت کو ہمارے محقق نے سندا ضعیف قرار دیا ہے۔جبکہ امام ترمذی اور شیخ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قراردیا ہے۔اورانہی کی رائے درست معلوم ہوتی ہے۔واللہ اعلم۔تفصیل کےلئے دیکھئے۔(الصحیحہ اللبانی رقم:727)2۔مریض کے لئے صحت مند انسان والی غذا مفید نہیں ہوتی۔ اس لئے انھیں بھاری غذا نہ دی جائے۔3۔اگر مریض کی طبیعت کھانے پینے پر آمادہ نہ ہو تو سختی نہ کی جائے۔ کیونکہ زبردستی کھلائی ہوئی غذا فائدے کی بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔4۔مناسب ترغیب کے ذریعے سےہلکی پھلکی زود ہضم غذا دی جاسکتی ہے۔ تاکہ قوت قائم رہے۔5۔اللہ تعالیٰ مریض کو کھلاتا پلاتاہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں تندرست آدمی کی طرح کھانے پینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔