Book - حدیث 3401

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ النَّهْيِ عَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ حسن صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُنْبَذَ فِي النَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمَةِ» وَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

ترجمہ Book - حدیث 3401

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل باب: (شراب کے) برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت کا بیان حضرت ابو ہر یر ہ ؓ سے رو ایت ہے ’ انھوں نے فر مایا : رسول اللہ ﷺ نے لکڑی کے برتن میں ’ تا ر کول لگے برتن میں ’ کدو سے بنے ہوئے برتن ( تو نبے) میں اور ( سبز ) ر وغنی گھڑے میں نبیذ بنا نے سے منع فر یا۔ اورفر یا : ’’ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ 1۔اہل عرب ان برتنوں میں شراب بناتے تھے۔اس لئے شروع شروع میں ان میں نبیذ بنانے سے بھی منع فرمادیا گیا تاکہ دوبارہ شراب کی خواہش پیدا نہ ہو۔2۔ سد ذرائع اسلام کا ایک اہم اور ضروری قانون ہے یعنی جس عمل سے کسی حرام تک پہنچنے کی راہ نکلنے کا خطرہ ہو اس جائز کام سے بھی پرہیز کیا جائے۔3۔ان برتنوں میں نبیذ بنانا اس لئے بھی منع کیا گیا کہ ان میں رکھے ہوئے مشروب میں جلد نشہ پیدا ہونے کاخطرہ ہوتا ہے۔4۔کدو یا اس سے ملتی جلتی سبزی(مثلا پیٹھا) جب بیل پر لگی رہے اور پک کر خشک ہوجائے تو اسے برتن کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کدو سے بنے ہوئے برتن سے یہی مراد ہے۔5۔مٹی کے برتن میں تارکول لگادی جائے۔یا روغن برتن ہوتو اس کے مسام بند ہوجاتے ہیں۔اس وجہ سے وہ مٹی کے برتن سے مختلف ہوجاتا ہے۔اوراس میں نبیذ جلدی شراب میں تبدیل ہوجاتی ہے۔اس لئے ان سے منع کیا گیا ہے۔