Book - حدیث 339

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ الِارْتِيَادِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ حَاجَتَهُ فَقَالَ لِي ائْتِ تِلْكَ الْأَشَاءَتَيْنِ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي النَّخْلَ الصِّغَارَ فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا فَاجْتَمَعَتَا فَاسْتَتَرَ بِهِمَا فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَالَ لِي ائْتِهِمَا فَقُلْ لَهُمَا لِتَرْجِعْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا فَقُلْتُ لَهُمَا فَرَجَعَتَا

ترجمہ Book - حدیث 339

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: پیشاب اور پاخانہ کے لیےمناسب جگہ تلاش کرنا سیدنا یعلیٰ بن مرہ ؓ اپنے والد (مرہ بن وہب ثقفی) سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا: میں ایک سفر میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ نے قضائے حاجت کا ارادہ کیا تو مجھ سے فرمایا:’’ کھجور کے ان دو چھوٹے پودوں کے پاس جا کر انہیں کہو: اللہ کے رسول تمہیں حکم دیتے ہیں کہ آپس میں مل جاؤ‘‘۔چنانچہ وہ مل گئے۔ آپ ﷺ نے ان کے ذریعے پردہ فر کر حاجت پوری کی، پھر مجھ سے فرمایا:’’ ان کے پاس جا کر کہو: تم میں سے ہر پودا اپنی اپنی جگہ واپس چلا جائے۔‘‘ میں نے انہیں کہا تو وہ اپنی اپنی جگہ واپس چلے گئے۔ 1۔یہ رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ کے لیے اللہ تعالی نے درختوں کو ان کی جگہ سے منتقل کردیا اور پھر انھیں دوبارہ ان کی جگہ واپس پہنچادیا،مزید یہ کہ درختوں کو اللہ کے رسول ﷺ نے براہ راست حکم نہیں دیا بلکہ صحابی نے ان تک پیغام پہنچایا اور انھوں نے تعمیل کی۔یہ صحابی کی کرامت ہے۔ 2۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے موقع پر پردے کا کس قدر اہتمام فرماتے تھے کہ کھجور کا ایک پودا پردے کے لیے کافی نہیں سمجھا حتی کہ اللہ کے حکم سے دوسرا پودا اس کے ساتھ مل کر زیادہ پردہ ہوگیا