Book - حدیث 3382

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ»

ترجمہ Book - حدیث 3382

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل باب: شراب کی تجارت کا بیان حضرت عا ئشہ ؓا سے روایت ہے ‘انہوں نے فرمایا :جب سود کے بارے میں سورۃ بقرہ کے اخیر والی آیات نازل ہو ئیں تو رسول اللہﷺ(گھر سے )باہر تشر یف لے گئے اور شراب کی حرام ہونے کا اعلان فر دیا۔ 1۔سود کی تمام صورتیں حرام ہیں۔تجارت کی بعض صورتیں بھی اس لئے حرام کردی گئی ہیں۔کہ ان کا نتیجہ سود کی صورت میں نکل سکتاہے۔(مثلا بیع عینہ) اسی طرح جب شراب حرام کی گئی ہو تو اس کی تجارت بھی حرام ہوگئی اس سے شراب نوشی کے راستے کھلتے ہیں۔نبی اکرمﷺ نے اسی مناسبت سے سود کے لین دین حرمت کے ساتھ شراب کی تجارت حرام ہونے کا بھی اعلان فرمایا۔(تفسیر ابن کثیر سورہ بقرہ آیت:275)2۔ایک مسئلہ بیان کرنے کی ضرورت ہوتو اس کے ساتھ اس سے ملتے جلتے مسائل بھی بیان کیے جاسکتے ہیں تاکہ سامعین کو دوبارہ یاد دہانی ہوجائے3۔حرام چیز کی خریدوفروخت بھی حرام ہے۔