Book - حدیث 3379

كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ بَابُ مَا يَكُونُ مِنْهُ الْخَمْرُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَهُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا، وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا، وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا»

ترجمہ Book - حدیث 3379

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام ومسائل باب: کس چیز سے بنی ہوئی (نشہ آور) چیز شراب ہوتی ہے؟ حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے‘رسول اللہ ﷺنے فرمایا :’’گندم کی شراب ہو تی ہے ‘جو کی شراب ہوتی ہے ‘منقیٰ سے (بنی ہوئی نشہ آورچیز)شراب ہوتی ہے اور شہد سے (بنی ہوئی نشہ آور چیز )شراب ہوتی ہے۔‘‘ 1۔شراب کسی بھی چیز سےبنائی جائے وہ حرام ہے۔2۔شراب کے حرام ہونے کی وجہ اس کا نشہ آور ہونا ہے۔اس لئے اگر کھانے کی کسی چیز سے یا کسی چیز کے انجکشن سے یا سونگھنے سے نشہ آتا ہو تو ان سب چیزوں کا یہ استعمال بھی حرام اور قابل سزا ہوگا۔3۔آپریشن وغیرہ کے لئے بے ہوش کرنے کے لئے کلوروفام سنگھانا نشہ کرانے کے حکم میں نہیں کیونکہ بے ہوشی اور مدہوشی (مست ہونے) میں فرق ہے۔تاہم یہ بھی صرف علاج کی غرض سے ضرورت کے موقع پر جائز ہے۔بلاضرورت ہوش وحواس ختم کرنے جائز نہیں۔