Book - حدیث 3362

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ مَنْ طَبَخَ فَلْيُكْثِرْ مَاءَهُ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا عَمِلْتَ مَرَقَةً، فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، وَاغْتَرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا»

ترجمہ Book - حدیث 3362

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: سالن پکاتے وقت زیادہ پانی ڈالیں حضرت ابو ذر سے رویت ہے ‘نبی ﷺنے فر مایا :’’جب تو شوربہ تیار کرے تو اس میں پانی زیادہ ڈال لیا کرو ۔اوراس میں سے کچھ شوربہ اپنے پڑوسیوں کودے دیا کرو۔‘‘ 1۔ ہمسایوں میں اچھے تعلقات قائم رکھنے کےلیے تحفے تحائف کالین دین بہت اچھا طریقہ ہے ۔ 2۔ قیمتی تحائف کی بجائے ایسی چیز دینا بہتر ہے جوفوری استعمال میں آجائے ۔ 3۔ جب کوئی خاص کھانا تیار کیا جائے تو کچھ نہ کچھ ہمسایوں کے ہاں بھی بھیجا جائے ۔ 4۔ عام سادہ کھانا بھی بھیجا جاسکتا ہے ۔ 5۔ معمولی ہدیہ ملے تو قبول کرلینا چاہیے اور شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔ 6۔ گوشت میں پانی زیادہ ڈال کر کچھ سالن ہمسایوں کے ہاں بھیج دینا ایسا طریقہ ہے جس کے لیے خاص طور پر اضافی خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ اس قسم کی اور چیزیں بھی ہو سکتی ہیں۔