Book - حدیث 3351

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ الِاقْتِصَادِ فِي الْأَكْلِ وَكَرَاهَةِ الشِّبَعِ حسن حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّقَفِيُّ، عَنْ مُوسَى الْجُهَنِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلْمَانَ، وَأُكْرِهَ عَلَى طَعَامٍ يَأْكُلُهُ، فَقَالَ: حَسْبِي، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا، أَطْوَلُهُمْ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

ترجمہ Book - حدیث 3351

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: کھانے میں اعتدال کا اور پیٹ بھر کر کھانے کی کراہت کا بیان حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے‘ان سے ایک کھانا کھانے پر اصرار کیا گیا تو انھون نے فرمایا:(جتنا کھا لیا وہی)کافی ہے۔میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ ارشاد مبارک سنا ہے:’’دنیا میں زیادہ سیر ہونے والے لوگ قیامت کے دن زیادہ طویل عرصے تک بھو کے رہیں گے۔‘‘ 1۔ کم کھانے والا بھوک برداشت کر سکتا ہے قیامت کے دن بھی اسے بھوک برداشت کرنا آسان ہو گا۔ 2۔ زیادہ کھانے کے شائق حلال و حرام میں امتیاز کرنے کی کوشش نہیں کرتے اس لیے صریح حرام سے بچ بھی جائیں تو مشکوک تو کھا ہی لیتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن سزا کے مستحق قرارپائیں گے ۔ 3۔ ڈکار لینا پیٹ بھر کر کھانے کی علامت ہے جو مستحسن نہیں ۔