Book - حدیث 3345

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ خُبْزِ الشَّعِيرِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا فِي بَيْتِي مِنْ شَيْءٍ، يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ، فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ»

ترجمہ Book - حدیث 3345

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: جو کی روٹی ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا: نبیﷺ فوت ہوئے تو میرے گھر میں انسان کے کھانے کی کوئی جیز نہ تھی مگر تھوڑے سے جو میرے ٹانڈ پر پڑے ہوئے تھے۔میں اس میں سے (لے لے کر)کھاتی رہی حتی کہ کافی مدت گزر گئی۔(آخر)میں نے انھیں ماپ لیا تو وہ (جلد ہی)ختم ہو گئے۔ 1۔ [رف] ٹانڈ کی وضاحت امام ابن اثیر رحمہ اللہ نے یوں کی ہے : دیوار کے پہلو میں زمین سے بلند ایک لکڑی جس پر محفوظ رکھنے کے لیے چیزوں کو رکھا جاتا ہے۔ 2۔ کھانے پینے کی یا عام استعمال کی اشیاء گھر میں ماپے تولے بغیر پڑی ہوں تو ان میں برکت ہوتی ہے ۔ 3۔ ام المومنین کے پاس جو بظاہر تھوڑے سے جوتھے ان کا خیال تھا کہ ایک دن میں ختم ہو جائیں گے ماپنے سے معلوم ہو گیا کہ اتنے دن تک استعمال ہو سکتے ہیں چنانچہ اتنے دن گزرے تو وہ ختم ہو گئے ۔