Book - حدیث 3324

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ الْقِثَّاءِ وَالرُّطَبِ يُجْمَعَانِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمِّي تُعَالِجُنِي لِلسُّمْنَةِ، تُرِيدُ أَنْ تُدْخِلَنِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا اسْتَقَامَ لَهَا ذَلِكَ، حَتَّى أَكَلْتُ الْقِثَّاءَ، بِالرُّطَبِ، فَسَمِنْتُ، كَأَحْسَنِ سِمْنَةٍ»

ترجمہ Book - حدیث 3324

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: ککڑی اور تازہ کھجوریں ملاکر کھانا حضرت عائشہ ؓا سے روایت ہے‘انھو ں نے فرمایا:میری والدہ(ام رومان زینب ؓ)مجھے موٹا کرنے کی تدبیر کیا کرتی تھیں تاکہ میری رخصتی کر کے رسول اللہﷺ کی خدمت میں روانہ کریں۔لیکن (کسی تدبیر سے )یہ مقصد حاصل نہ ہوا حتی ٰ کہ میں نے تازہ کھجوروں کے ساتھ ککڑی کھائی تو انتہائی متناسب انداز کی فربہ ہو گئی۔ 1۔ قثاء ککڑی ( پنجابی میں :تر) کو بھی کہتے ہیں اور کھیرے کوبھی ۔ محمد فواد عبدالباقی ﷫ نےبھی اس کے دونوں معنی :خیار (کھیرا ) اور عجور (ککڑی) ذکر کیے ہیں ۔ دیکھیے : ( حاشیة صحيح مسلم. الأشربة . باب أكل القثاء بالرطب .حديث :2043) علامہ وحید الزمان خان ﷫ او رمولانا عبد الحکیم خاں اختر شاہ جہان پوری ﷫ دونوں نے اس حدیث میں ککڑی مراد لی ہے ۔ 2۔ حضرت عائشہ ؓ رخصتی سے پہلے بہت دبلی تھیں اور ان کی والدہ کی خواہش تھی کہ ان کا قد کاٹھ اس قدر ہو جائے کہ نبی اکرم ﷺ کوبہتر معلوم ہوں ۔ 3۔ خاوند کی خدمت کے لیے بیوی کو اپنی صحت کا خیال رکھنا اچھی بات ہے ۔ 4۔ طب مشرق کے اصولوں کے مطابق ککڑی سرد تاثیر رکھتی ہے اور کھجور گرم۔ دونوں کو ملا کر کھانے سے ان کی تاثیر معتدل ہو جاتی ہے جس سے نقصان کا اندیشہ نہیں رہتا ۔