Book - حدیث 3322

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ اللَّبَنِ حسن حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا، فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ، فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، إِلَّا اللَّبَنُ»

ترجمہ Book - حدیث 3322

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: دودھ کابیان حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جسے اللہ تعالیٰ کوئی کھانا کھانے کو دے تو اسے چاہیے کہ یوں کہے:] اللَّهُمَّ !بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْهُ[ ’’اے اللہ!ہمیں اس میں برکت دے‘اور اس سے بہتر رزق عطا فرما۔‘‘ اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پینے کو دے تو اسے یوں کہنا چاہیے:﴿اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ﴾ ا ے اللہ !ہمیں اس میں برکت دے ‘اور یہ زیادہ دے۔‘‘ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ دودھ کے علاوہ بھی کوئی چیز غذا اور مشروب(دونوں)کا فائدہ دیتی ہے۔‘‘ 1۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا جبکہ شیخ البانی ﷫ نے اسے دیگر شواہد کی بنا پرحسن قرار دیا نیز مذکورہ روایت مسند احمد میں بھی تفصیل سے مروی ہے اس میں دودھ پینے ک یدعا تووہی ہے جو مذکورہ حدیث میں ہے تاہم کھانے کی دعا کے آخری الفاظ مختلف ہیں یعنی[وارزقنا خيرا منه] کی بجائے[وأطعمنا خيرا منه] ہیں ۔ مسند احمد کی روایت کوبھی محققین نے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے لہٰذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل ہے ۔ واللہ اعلم. تفصیل کےلیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثيةمسند الامام احمد :4/345 –والصحيحة للالبانى 5/411-413.حديث :2320) 2- کھانا کھا کر اور دودھ پی کر مذکورہ دعائیں پڑھنا اللہ کی نعمت کااعتراف اور شکر ہے ۔ 3۔ دودھ اللہ کی ایک خاص نعمت ہے جو ایک مکمل غذا ہے ۔