Book - حدیث 3314

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ الْكَبِدِ وَالطِّحَالِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُحِلَّتْ لَكُمْ مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ، فَأَمَّا الْمَيْتَتَانِ، فَالْحُوتُ وَالْجَرَادُ، وَأَمَّا الدَّمَانِ، فَالْكَبِدُ وَالطِّحَالُ»

ترجمہ Book - حدیث 3314

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: کلیجی اور تلی حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے‘رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہمارے لیے دو مری ہوئی چیزیں اور دو خون حلال ہیں۔مردہ چیزیں تو مچھلی اور ٹڈی ہیں اور دو خون کلیجی اور تلی ہیں۔‘‘ 1۔مچھلی خواہ کسی قسم کی ہو بغیر ذبح کے ہی حلال ہے ۔ بعض علماء نے فرق کیا ہے کہ اس طرح مرے تو حلال ہے اور اس طرح مرے تو حرام ہے اس فرق کی کوئی دلیل نہیں ۔ 2۔ مچھلی کے علاوہ دوسرے سمندری جانور کےبارے میں بھی امام بخاری ﷫ نے صحابہ وتابعین کے اقوال ذکر کیے ہیں کہ وہ سب مچھلی کے حکم میں ہیں ۔ عطاء ﷫ نے آبی پرندوں کواس سے مستثنیٰ کیا ہے اور فرمایا ہےکہ انہیں ذبح کرنا چاہیے ۔ دیکھیے : ( صحیح البخاری ، الذبائح والصید ،باب قول اللہ تعالیٰ : ﴿أُحِلَّ لَكُم صَيدُ البَحرِ‌ وَطَعامُهُ مَتاعًا لَكُم﴾قبل حديث: 5493)3۔ کلیجی اور تلی بھی خون ہیں گوجمے ہوئے سہی ۔ واللہ اعلم .