Book - حدیث 3299

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ عَرْضِ الطَّعَامِ حسن صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ - قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: «ادْنُ فَكُلْ» فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي هَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 3299

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: کھانا کھانے کی پیش کش کرنا حضرت انس بن مالک ؓ جن کا تعلق قبیلۂ بنو عبدالاشہل سے تھا، ان سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نبیﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ دوپہر (؟صبح) کا کھانا کھارہے تھے۔ آپ نے فرمایا: ’’آئیے، کھانا کھائیے۔‘‘ میں نے کہا: میں روزے سے ہوں۔ افسوس! کاش میں رسول اللہﷺ کے کھانے میں سے کچھ کھالیتا۔ 1۔ اس روایت کے راوی وہ حضرت انس بن مالک نہیں جو رسول اللہ ﷺ کے خادم خاص اور حضرت ام سلیم ؓ کے بیٹے تھے بلکہ یہ ایک اور صحابی ہیں اس لیے راوی کے وضاحت کر دی کہ ان کا تعلق بنوعبد الاشہل کے قبیلے سے ہے۔ 2۔ روزے دار کواگر کھانے کی دعوت دی جائے تو نفلی روزہ چھوڑ کر دعوت قبول کرلینا بہتر ہے تاہم روزہ مکمل کرنا بھی جائز ہے۔ 3۔ اگر کھانے کی دعوت دینے پر دوسرا شخص معذرت کرلے تو زیادہ اصرار نہیں کرنا چاہیے ۔ 4۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا ایک عظیم شرف ہے جس کے چھوٹ جانے پر صحابی کو بعد میں افسوس ہوا کیونکہ روزہ تو بعد میں بھی رکھا جاسکتا تھا۔ دوسرے علاقے میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سےانہیں دوبارہ ایسا موقع نہیں ملا کہ یہ شرف حاصل کر سکیں۔