Book - حدیث 3285

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ مَا يُقَالُ إِذَا فَرَغَ مِنَ الطَّعَامِ حسن حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي مَرْحُومٍ عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا، وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي، وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ

ترجمہ Book - حدیث 3285

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: کھانے سے فارغ ہو کر کیا کہنا چاہیے ؟ حضرت معاذ بن انس جہنی ؓ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے کھانا کھا کر یہ دعا پڑھی: [الحمد للہِ الذی أطعمنی هذا ورزقنيةمن غیر حولٍ منی ولا قوةٍ] ’’ہر قسم کی تعریف اللہ ہی کے لیے جس نے یہ (کھانا) مجھے کھلایا اور مجھے یہ (کھانا) عطا کیا بغیر میری کسی طاقت کے اور بغیر میری کسی قوت کے۔‘‘ اس کے گزشتہ (تمام) گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔‘‘ 1۔ اللہ کی نعمت پر اس کاشکر ادا کرنا بہت بڑی نیکی ہے ۔ 2۔ شکر گناہوں کی معافی کا باعث ہے ۔ 3۔ رزق کے حصول کےلیے اگرچہ ایک حد تک انسان بھی کوشش اورتدبیر سے کام لیتا ہےتاہم اس کوشش کو کامیاب کرنا اورتدبیر سجھانا بھی اللہ ہی کا فضل ہے اور اسی کی توفیق سے ہے ۔