Book - حدیث 3263

كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ بَابُ الْأَكْلُ مُتَّكِئًا صحیح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ، قَالَ: أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً، فَجَثَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، يَأْكُلُ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا هَذِهِ الْجِلْسَةُ؟ فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا، وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا»

ترجمہ Book - حدیث 3263

کتاب: کھانوں سے متعلق احکام ومسائل باب: ٹیک لگا کر کھانا کھانے کابیان حضرت عبد للہ بن بسر ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے ایک بکری نبیﷺ کی خدمت میں ہدیے کے طور پر پیش کی، رسول اللہﷺ گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کھانے لگے۔ ایک اعرابی نے (تعجب سے) کہا: بیٹھنے کا یہ کیسا انداز ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے شریف بندہ بنایا ہے، متکبر اور سرکش نہیں بنایا۔‘‘ 1۔ محمدفواد عبدالباقی رحمہ اللہ نے اتکاء (ٹیک لگانے ) کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں : ۔(الف) چار زانو (چوکڑی مار کر )بیٹھنا۔ (ب) اچھی طرح کھل کر بیٹھنا۔ (ج) پیٹھ کی چیز (دیوار وغیرہ ) سے لگا کر بیٹھنا ۔ (د) ایک ہاتھ زمین پر رکھ کر ( اس پر سہارا لےکر ) بیٹھنا ۔ عام طور پر اس لفظ سے تیسرا مفہوم مراد لیا جاتا ہے ۔ 2۔ گھٹنوں کے بل بیٹھنے سےمراد تشہد کی طرح بیٹھنا یا اکڑوں بیٹھنا ہے یعنی پنڈلیاں کھڑ﷫ کرکے پاؤں کے پورے تلوےزمین پر لگا کر ان پر بیٹھنا ۔ 3۔ تکبر کی ہر صورت مذموم ہے ۔ اور ہرکام میں تواضع قابل تعریف ہے ۔