Book - حدیث 321

كِتَابُ الطَّهَارَةِ وَسُنَنِهَا بَابُ النَّهْيِ عَنِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ بِالْغَائِطِ وَالْبَوْلِ صحیح قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ وَحَدَّثَنَاهُ عُمَيْرُ بْنُ مِرْدَاسٍ الدَّوْنَقِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أَشْرَبَ قَائِمًا وَأَنْ أَبُولَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ

ترجمہ Book - حدیث 321

کتاب: طہارت کے مسائل اور اس کی سنتیں باب: پیشاب پاخانے کےوقت قبلہ روہونے کی ممانعت سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر پانی پینے اور قبلہ کی طرف منہ کر کے پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ اس حدیث میں کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع کیاگیا ہے۔بعض علماء اس نہی کو تنزیہ پر محمول کرتے ہیں یعنی کھڑے ہوکر پانی پینا جائز تو ہےلیکن بہتر نہیں کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہوکربھی پانی پیاہے۔بعض دیگر علماء اسے جائز نہیں سمجھتے کیونکہ صحیح مسلم میں یہ ارشاد نبوی ہے: ( لا يشربن احد منكم قائما فمن نسي فاليستقي) ( صحيح مسلم الاشربة باب في ا لشرب قائما حديث: ٢-٢٦) تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوکر( پانی وغیرہ نہ پیے)اور جو بھول کر پی لے اسے چاہیے کہ قے کردے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جواز کو مجبوری کی حالت پر محمول کرنا چاہیے یعنی اگر بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ نہ ہوتو کھڑے ہو کر پانی پی لے۔ورنہ پرہیز کرے۔واللہ اعلم