Book - حدیث 3168

كِتَابُ الذَّبَائِحِ بَابُ الْفَرَعَةِ وَالْعَتِيرَةِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا فَرَعَةَ، وَلَا عَتِيرَةَ» قَالَ هِشَامٌ فِي حَدِيثِهِ: وَالْفَرَعَةُ: أَوَّلُ النَّتَاجِ، وَالْعَتِيرَةُ: الشَّاةُ يَذْبَحُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ فِي رَجَبٍ

ترجمہ Book - حدیث 3168

کتاب: ذبیحہ سے متعلق احکام ومسائل باب: فرعہ اور عتیرہ کی قربانی حضرت ابو ہریرہ ؓسےروایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی فرعہ نہیں اور کوئی عتیرہ نہیں ۔‘‘ (ابن ماجہ کےاستاذ)ہشام بن عمار ؓ بیان کرتے ہیں :فرعہ (جانور کا ) پہلا بچہ ہوتا تھا اور عتیرہ اس بکری کو کہتے تھے جو گھر والے رجب میں ذبح کرتے تھے ۔ 1۔۔جاہلیت میں بتوں کے نام کی مختلف قربانیاں دی جاتی تھیں۔ان میں سے ایک فرعہ بھی ہے۔لیکن جب قربانی کا حکم ہوا تو اس خاص صفت کا اہتمام کرتے ہوئے قربانی دینا منسوخ ہوگیا'البتہ اللہ کے نام پر حسب توفیق جانور ذبح کرکے مسکینوں کو کھلانا ایک نیکی ہے جو منسوخ نہیں'یہ بات یاد رہےکہ شریعت میں ثابت قربانی(عید الاضحی اور عقیقہ ) کے علاوہ کسی اور دن کو خاص کرکے قربانی یا صدقہ دینا درست نہیں۔ 2۔عتیرہ کی قربانی رجب کے مہینے میں دی جاتی تھی ۔اب وہ بھی منسوخ ہے لیکن دن اور جگہ کی تعین کے بغیراللہ کے نام پر حسب توفیق جانور ذبح کرنا منسوخ نہیں بلکہ مستحب ہے'صرف وجوب منسوخ ہے۔مزید دیکھیے'حدیث:3125 کے فوائدومسائل۔