Book - حدیث 3144

كِتَابُ الْأَضَاحِيِّ بَابُ مَا يُكْرَهُ أَنْ يُضَحَّى بِهِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ فَيْرُوزَ، قَالَ: قُلْتُ لِلْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: حَدِّثْنِي بِمَا كَرِهَ، أَوْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَضَاحِيِّ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا بِيَدِهِ، وَيَدِي أَقْصَرُ مِنْ يَدِهِ أَرْبَعٌ لَا تُجْزِئُ فِي الْأَضَاحِيِّ: الْعَوْرَاءُ، الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ، الْبَيِّنُ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ، الْبَيِّنُ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرَةُ، الَّتِي لَا تُنْقِي قَالَ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ نَقْصٌ فِي الْأُذُنِ، قَالَ: فَمَا كَرِهْتَ مِنْهُ، فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ

ترجمہ Book - حدیث 3144

کتاب: قربانی سے متعلق احکام ومسائل باب: جس جانور کی قربانی دینا مکروہ ہے حضرت عبید بن فیروز ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے فرمایا :میں نے حضرت براء بن عازب کہا : مجھے بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فربانی کے کس جانور کو ناپسند کیا ہے یا ا س سے منع فرمایاہے ؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ اور میرا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کےہاتھ سے کوتاہ ہے ۔(اور فرمایا:) ’’قربانی میں چار جانور جائز نہیں : وہ کانا جانور جس کا کانا پن واضح ہو ،وہ بیمار جانور جسکی بیماری واضح ہو ، لنگڑا جانور جسکالنگڑا پی واضح ہو او ردبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو ۔‘‘ عبید نے کہا : میں تو پسندنہیں کرتا کہ اس کے کان میں نقص ہو ۔حضرت براء نے فرمایا:جو چیز تمہیں پسند نہیں ، اسے چھوڑ دو لیکن اسے کسی پر حرام نہ کرو ۔ 1۔معمولی عیب جو گہری نظر سےدیکھے بغیر محسوس نہ ہوقربانی میں رکاوٹ نہیں۔ 2۔( الكبيرة) کی تشریح محمد فواد عبدالباقی نے یوں کی ہے:جس کی ٹانغ ٹوٹی ہو اور وہ چلنے سے عاجز ہو۔(حاشیہ سنن ابن ماجہ) لیکن یہ صورت لنگڑا ہونے میں شامل ہے۔نواب وحید الزمان خان نے اس کا ترجمہ دہلی کیاہے وہ زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔علامہ ابن کثیر ؒ نے اگرچہ (الكسير البينةالكسر) کا وہی مطلب بیان کیا ہے جو محمد فواد نے لکھا ہے۔لیکن اس روایت میں (الكسيرة التي لاتنقي ) کے الفاظ ہیںیہاں یہ معنی درست معلوم نہیں ہوتے۔ابن اثیر ؒنے كسر کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا ہےوہ ہڈی جس پر زیادہ گوشت نہ ہو۔(النهايةماده كسر) اس مناسبت سے (كسيرة) کا مطلب دبلی پتلی(بکری) زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ 3۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی رائے میں کان کٹا ہوا یا پھٹا ہوا ہونا ایسا عیب نہیں جو قربانی سے مانع ہو،