Book - حدیث 3090

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ مَا يُنْهَى عَنْهُ الْمُحْرِمُ، مِنَ الصَّيْدِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا صَعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِيَ الْكَرَاهِيَةَ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ»

ترجمہ Book - حدیث 3090

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: احرام والے کو کون سا شکار کرنا منع ہے حضرت صعب بن جثامہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں ابواء یا ودان کے مقام پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے۔ میں نے آپ کی خدمت میں گورخر (کا گوشت) تحفے کے طور پر پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ مجھے واپس دے دیا (قبول نہ کیا۔) جب آپ نے میرے چہرے پر افسوس کے آثار دیکھے تو فرمایا: ہم آپ کو (یہ تحٖفہ) واپس تو نہ کرتے لیکن ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ 1۔گورخر ایک جنگلی جانور ہوتا ہےجو گدھے سے کچھ مشابہت رکھتا ہےاس لیے اسے حمار وحشی یعنی جنگلی گدھا کہتے ہیں۔یہ حلال جانور ہے۔ 2۔تحفہ دینا اور قبول کرنا مسنون ہے۔اس سے محبت کا اظہار ہوتا ہےاور محبت بڑھتی ہےتاہم تحفہ دیتے وقت یہ خواہش نہیں ہونی چاہیے۔کہ جواب میں بھی کوئی تحفہ پیش کیا جائےگا۔ 3۔اگر مجبوراً کسی سے ایسا معاملہ کرنا پڑے جو اسے ناگوار گزرے تو عذر بیان کردینا چاہیےتاکہ دل صاف ہوجائے۔ 4۔احرام والا اس جانور کا گوشت نہیں کھاسکتا جو اس کے لیے شکار کیا گیاہو۔ 5۔احرام میں پالتو جانور کا گوشت کھانا منع نہیں۔