Book - حدیث 3045

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الْحَلْقِ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ ظَاهَرْتَ لِلْمُحَلِّقِينَ ثَلَاثًا، وَلِلْمُقَصِّرِينَ وَاحِدَةً؟ قَالَ: «إِنَّهُمْ لَمْ يَشُكُّوا»

ترجمہ Book - حدیث 3045

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: سر منڈوانا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عرض کیا گیا:اے اللہ کے رسول!آپ نے سر کے بال منڈوانے والوں کی تین بار تائید فرمائی اور کٹوانے والوں کی ایک بار؟آپ نے فرمایا:’’انھوں نے شک نہیں کیا۔‘‘ 1۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح اور حسن قرار دیا ہے۔اور اس پر سیر حاصل بحث کی ہے۔جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہےلہذا مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الامام احمد :٥/٣٣٧/٣٣٨ وارواء الغليل للالباني :٤/٢٨٥/٢٨٦ وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكور بشار عواد رقم :٣-٤٥) بنابریں بال منڈوانے میں چونکہ حکم کی تعمیل کا اظہار زیادہ واضح ہے اور کامل ہے۔اس کے لیے ان کے لیے تین بار دعا کی گئی ۔ 2۔حافظ ابن حجر ؒ نے امام خطابی ؒ سے یہ توجیہ نقل کی ہےکہ عربوں میں بال رکھنے کا رواج تھااور وہ بال منڈوانے کو عجمیوں کا طریقہ سمجھتے تھےاس لیے سر منڈوانے کو ان کا جی نہیں چاہتا تھا۔مطلب یہ ہے کہ اس کے باوجود سر منڈوالینا تعمیل حکم کا بلند درجہ ہے۔ 3۔شک سے مراد تذبذب اور ہچکچاہٹ کا اظہار ہے۔