Book - حدیث 3037

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ تَأْخِيرِ رَمْيِ الْجِمَارِ مِنْ عُذْرٍ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَنْبَأَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الْبَدَّاحِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِعَاءِ الْإِبِلِ فِي الْبَيْتُوتَةِ، أَنْ يَرْمُوا يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ يَجْمَعُوا رَمْيَ يَوْمَيْنِ بَعْدَ النَّحْرِ، فَيَرْمُونَهُ فِي أَحَدِهِمَا - قَالَ مَالِكٌ: ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَالَ: فِي الْأَوَّلِ مِنْهُمَا - ثُمَّ يَرْمُونَ يَوْمَ النَّفْرِ

ترجمہ Book - حدیث 3037

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: عذر کی وجہ سے رمی کو مؤخر کیا جاسکتا ہے حضرت ابو بداح عدی بن عاصم ؓ اپنے والد(عاصم بن عدی بن جد ؓ)سے روایت کرتے ہیں‘انھوں نے فرمایا:رسول اللہ ﷺنے اونٹوں کے چرواہے کو رات گزارنے کے بارہ میں رعایت دی کہ وہ قربانی کے دن رمی کریں‘پھر قربانی کے بعد دو دن کی رمی اکٹھی کسی ایک دن(گیارہ یا بارہ تاریخ کو)کر لیں۔امام مالک نے فرمایا:میرا خیال ہے کہ راوی نے یہ کہا تھا:دو دنوں میں سے پہلے دن (گیارہ ذوالحجہ کو)رمی کر لیں۔اس کے بعد واپسی کے دن(تیرہ ذوالحجہ کو)رمی کر لیں۔ 1۔ذوالحجہ کی گیارہ بارہ تیرہ تاریخ کو ایام تشریق کہتے ہیں۔ان تین دنوں میں حاجی سرف جمرات میں رمی کرتے ہیں۔ اور جس نے دس تاریخ کو قربانی نہ کی ہو وہ ان دنوں میں قربانی کرسکتا ہے۔ 2۔عذر کی وجہ سے دو دن کی رمی ایک دن کرنا جائز ہے۔خواہ گیارہ تاریخ کو گیارہ اور بارہ کی رمی کرلی جائےپھر اس کے بعد تیرہ تاریخ کو رمی کی جائے خواہ بارہ تاریخ کو گیارہ اور بارہ کی رمی کرکے پھر اگلے دن رمی کر لی جائے۔