Book - حدیث 3030

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ مِنْ أَيْنَ تُرْمَى جَمْرَةُ الْعَقَبَةِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: «مِنْ هَاهُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ»

ترجمہ Book - حدیث 3030

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: بڑے جمرے پر کنکریاں کہاں کھڑے ہوکر ماری جائیں؟ حضرت عبدالرحمان بن یزید ؓ سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ جب جمرۂ عقبہ کے پاس آئے تو وادی کے نشیبی حصے میں چلے گئے‘کعبہ کی طرف منہ کیا‘جمرے کو اپنے دائیں ابروکے مقابل رکھا اور سات کنکریاں ماریں۔ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے‘پھر فرمایا:قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں‘اسی جگہ کھڑے ہو کر کنکریاں ماری تھیں اس شخصیت نے جن پر سورہ بقرہ نازل ہوئی۔ 1۔ابرو کے مقابل رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ بالکل سامنے کھڑے نہیں ہوئے بلکہ تھوڑا سا ہٹ کر کھڑے ہوئے۔ 2۔ رمی کرتے وقت کنکریاں ایک ایک مارنی چاہییں۔ 3۔ہر کنکری مارتے وقت الله اكبر کہنا چاہیے۔ 4۔اس حدیث میں ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کیا جب کہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو بائیں طرف اور منی کو دائیں طرف رکھا۔(صحيح البخاريالحجباب من رمي جمرة العقبة فجعل البيت عن يسارهحديث :١٧٤٩) حافظ ابن حجر ؒ نے صحیح بخاری کی روایت کو ترجیح دی ہےلیکن یہ بھی فرمایا ہے:اس بات پر اجماع ہے کہ جہاں بھی کھڑے ہوکر رمی کرے جائز ہےخواہ اس کی طرف منہ کرے یا اسے دائیں بائیں رکھے۔اس کی اوپر کی سمت سے یا نیچے کی سمت سے یا درمیان سے (فتح الباري٣/٧٣٤) 5۔سورۃ بقرہ کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ اس میں حج کے بہت سے مسائل مذکور ہیں،مطلب یہ ہے کہ قرآن کے احکام کا مطلب رسول اللہ ﷺ بہتر طور پر سمجھتے تھے اس لیے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے عمل کیا ہےہمیں بھی اسی طرح کرنا چاہیے۔