Book - حدیث 3023

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الْوُقُوفِ بِجَمْعٍ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ الْمَكِّيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ، قَالَ جَابِرٌ: أَفَاضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَعَلَيْهِ السَّكِينَةُ، وَأَمَرَهُمْ بِالسَّكِينَةِ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُوا، بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ، وَأَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ، وَقَالَ: «لِتَأْخُذْ أُمَّتِي نُسُكَهَا، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي، لَا أَلْقَاهُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا»

ترجمہ Book - حدیث 3023

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: مزدلفہ میں ٹھہرنا حضرت جابر ؓ سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:حجۃ الوداع میں نبیﷺ(مزدلفہ سے)واپس لوٹے تو آپ پر اطمینان و سکون کی کیفیت تھی۔آپ نے لوگوں کو بھی سکون کا حکم دیا۔ اور انھیں ایسی (چھوٹی)کنکریوں کے ساتھ رمی کرنے کا حکم دیا جو انگلیوں میں پکڑ کر پھینکی جا سکیں۔آپ نے وادئ محسر میں سواری کو تیز کیا اور فرمایا:’’میری امت کو چاہیے کہ اپنے عبادت کے طریقے سیکھ لے۔مجھےمعلوم نہیں کہ میں اس سال کے بعد ان سے(حج میں)ملاقات نہ کر سکوں۔‘‘ 1۔حج کے دوران میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتے ہوئےتیز رفتاری سے پرہیز کرنا چاہیے بلکہ درمیانی راستہ سے چلنا چاہیے۔ 2۔وادئ محسر وہ مقام ہے جہاں ابرہہ کا لشکر تباہ ہوا تھااس لیے رسول اللہﷺ وہاں سے تیزی سے گزرے۔ 3۔قدیم تباہ شدہ بستیوں کو سیر گاہ نہیں بنانا چاہیے۔پاکستان میں ہڑپہ اور موہن جودڑو کے کھنڈرات پائے جاتے ہیںدوسرے ممالک میں بھی ایسے مقام موجود ہیں۔ممکن ہے یہاں کے لوگ اللہ کے عذاب کی وجہ سے تباہ ہوئے ہوں۔اللہ کی عذاب یافتہ قوموں کے آثار باعث عبرت ہے تماشہ گاہ نہیں۔ 4۔شریعت کے مسائل میں اصل مرجع رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہےکسی اور کا عمل حجت نہیں۔علمائے کرام سے رسول اللہﷺ کا فرمان ہی دریافت کرنا چاہیے۔ 5۔رسول اللہﷺ اگلے حج تک زندہ نہیں رہےجیسے آخری حک کے موقع پر فرمادیا تھا۔نبیﷺ کی اور بھی بیت سی پیشگوئیاں حرف بحرف پوری ہوئیں۔یہ رسول اکرم ﷺ کی صداقت اور نبوت کی دلیل ہے۔