Book - حدیث 3017

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ حِينَ دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ؟ قَالَ: «كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً، نَصَّ» قَالَ وَكِيعٌ: يَعْنِي فَوْقَ الْعَنَقِ

ترجمہ Book - حدیث 3017

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: عرفات سے روانگی حضرت اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے‘ان سے سوال کیا گیا:رسول اللہﷺجب عرفات سے روانہ تھے تو کس طرح چلتے تھے؟ انھوں نے فرمایا:درمیانی رفتار سے چلتے تھے۔جب کھلی جگہ ملتی تو رفتار تیز کر دیتے۔ راوئ حدیث وکیع ؓ نے کہا:یعنی آپ درمیانی رفتار سے تھوڑا تیز چلتے۔ 1۔عنق اس درمیانی رفتار کو کہتے ہیں جو بہت آہستہ بھی نہ ہو اور زیادہ تیز بھی نہ ہو۔ 2۔نص اونٹ کی تیز رفتار کو کہتے ہیں۔ 3۔بھیڑ بھاڑ کے مقامات پر تیز رفتاری مناسب نہیں کیونکہ اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہےاور حادثے کا خطرہ ہوتا ہے۔ 4۔جانور سے اس کی طاقت کے مطابق ضرورت کے مطابق زیادہ کام بھی لیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ نہیں ہونا چاہے کہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ کا م لینے کی کوشش کی جائے بلکہ اس کے آرام کا بھی خیال رکھنا جاہیئے۔