Book - حدیث 2978

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَخِيهِ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ إِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ بَعْدَ الْيَوْمِ اعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ اعْتَمَرَ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فِي الْعَشْرِ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَلَمْ يَنْهَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ نَسْخُهُ قَالَ فِي ذَلِكَ بَعْدُ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ أَنْ يَقُولَ

ترجمہ Book - حدیث 2978

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: عمرے کے بعد حج تک احرام کھول دینا حضرت مطرف بن عبد اللہ بن شخیر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا :مجھے حضرت عمران بن حصین ؓ نے فرمایا : میں تجھے ایک حدیث سنا تا ہو ں شاہد آج کے بعد (آئندہ زندگی میں ) اللہ اس سے تجھے فاہدہ دے ۔ یاد رکھو کہ رسول اللہ ﷺ کے گھر کے چند افراد نے ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں عمرہ کیا تھا ۔ رسول اللہﷺ نے اس سے منع نہیں کیا نہ اس کے منسوخ ہونے کا حکم نازل ہوا اس کے بعد ایک آدمی نے اپنی رائے سے چو چاہا کہہ دیا۔ 1۔ شاید آئندہ زندگی میں فائدہ ہو ۔یہ اس لیے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج تمتع پسند نہیں کرتے اس لیے ابھی مناسب نہیں کہ ان کی مخالفت کی جائے کیونکہ حج قران بھی جائز ہے البتہ بعد میں آپ حج تمتع کریں اور دوسروں کو بھی مسئلہ بتائیں کہ یہ جائز ہے۔ 2۔ رسول اللہ ﷺ کے گھر کے افراد سے مراد ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ ہیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب ہم لوگ (مکہ )آئے ہم نے کعبہ کا طواف کیا(اور سعی کی) تب نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ جو شخص قربانی لیکر نہیں آیا وہ احرام کھول دے۔تو جب لوگ قربانی نہیں لائے تھے انھوں نے احرام کھول دیا۔ (صحيح البخاري الحج باب التمتع والقران والافراد بالحج۔۔۔۔۔ حديث:١٥٦١) حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ اور ان کے شوہر حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی حج تمتع کیاتھا۔(صحيح البخاري العمرة باب متي يحل المعتمر حديث:٧٩٤) 3۔حج تمتع سے اجتناب کا فتوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا تھا۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی موقف تھا۔(صحيح مسلم الحج باب في المتعة بالحج حديث:١٢١٧) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت ہے کہ وہ منع کرتے تھے۔۔(موطا امام مالك الحج باب القران في الحج :١/٣-٢) لیکن یہ حدیث ضعیف ہے۔حج قران یا تمتع کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ وہ کہتے تھے کہ عمرے کے لیے الگ سفر ہونا چاہیے تاکہ ایسا نہ ہوکہ سب لوگ حج کے ساتھ عمرہ کرکے چلے جائیں اور سال کے باقی حصے میں کعبہ شریف کی رونق قائم نہ رہے۔