Book - حدیث 2956

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ فَضْلِ الطَّوَافِ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ كَانَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ

ترجمہ Book - حدیث 2956

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: طو اف کعبہ کی فضیلت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سےروایت ہے ‘انہوں نے فر یا :میں نے رسول اللہﷺسے یہ فرمان سنا :’’جو شخص بیت اللہ کا طواف کے اور دو رکعت نماز پڑھے‘(اس کا)یہ (عمل)ایک انسان آزاد کرنے کی طرح ہے۔ 1۔کعبہ شریف کا طواف ایک مستقل عبادت ہے۔یہ ایسی عبادت ہے جو دنیا میں کسی اور مقام پر ادا نہیں کی جاسکتی لہذا جسے مکہ شریف جانے کا موقع ملے اسے چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ طواف کرنے کی کوشش کرے۔ 2۔بعض لوگ مکہ مکرمہ جاکر باربار عمرہ کرتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے ایسے نہیں کیابلکہ جعرانه والے عمرے کے سوا باقی عمروں کے لیے مدینے سے سفر فرمایا۔اس لیے باربار عمرہ کرنے کے بجائے باربار طواف کرنا چاہیے۔ 3۔نفلی طواف کا طریقہ بھی ہی ہے جو حج و عمرہ کے طواف کا ہے۔اس میں احرام باندھنے کی ضرورت نہیں۔کعبہ شریف کے گرد سات چکر لگائے۔طواف وحجر اسود سے شروع کرکے حجر اسود پر ختم کرے۔اس کے بعد مقام ابراہیم کے دو قریب دو رکعت نماز ادا کرے۔اگر یہاں جگہ نہ ملے تو مسجدوں میں کسی بھی مقام پر دو رکعتیں پڑھ لے۔یہ ایک طواف ہوجائے گا۔اس طرح جس قدر طواف کرسکے کر لے۔