Book - حدیث 2952

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الرَّمَلِ، حَوْلَ الْبَيْتِ حسن صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ فِيمَ الرَّمَلَانُ الْآنَ وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ وَايْمُ اللَّهِ مَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 2952

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: طواف کعبہ کے دوران میں رمل کرنا حضرت عمر ؓ سے روایت ہے ‘انہوں نے فر یا:اب رمل کا کیا فا ئدہ ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو مستحکم کردیا ہے اورکفر اہل کفر کو ملک (عرب)سے نکال مدیا ہے ؟اورقسم ہے اس اللہ کی !ہم وہ کام نہیں چھوڑیں گے جو رسول اللہﷺکے زمانے میں کیا کرتے تھے۔ 1۔رمل کی مشروعیت کی حکمت کافروں پر مسلمانوں کا رعب طاری کرنا اور انھیں یہ احساس دلانا ہے کہ کمزور نہیں۔ 2۔ فتح مکہ کے بعد حرم میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع قراردیا گیا ہے۔اب وہ مسلمانوں کو رمل کرتے نہیں دیکھ سکتے،قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ اب رمل نہ کیا جائے لیکن قیاس کے ذریعے سے کوئی شرعی حکم منسوض نہیں ہوسکتا۔ 3۔اگر رمل منسوخ ہونا ہوتا تو فتح مکہ کے بعد اللہ تعالی اسے منسوخ کردیتا۔اگر اس وقت منسوخ نہیں ہوا تو نبیﷺ کی وفات کے بعد اسے موقوف کیا جاسکتا ہے۔ 4۔بعض اوقات ایک شرعی حکم کی حکمت واضح نہیں ہوتی لیکن اس وجہ سے اس حکم پر عمل کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ 5۔ممکن ہے اس کے منسوخ نہ ہونے میںیہ حکمت ہو کہ حج کے اعمال ایک لحاظ سے جہاد کی تربیت پر مشتمل ہیں اور جہاد قیامت تک جاری رہے گا لہذا اس کی تربیت کے کسی عمل کو منسوخ کرنے کی ضرورت نہیں۔ 6۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ سنت نبوی پر اس حد تک عمل کرنے والے تھے کہ جس کی بظاہر کوئی حکمت نظر نہیں آتی اسے بھی ترک نہیں کیا تاکہ عام لوگوں کی نظر میں سنت کی اہمیت واضح ہو۔