Book - حدیث 2947

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ مَنِ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، بِمِحْجَنِهِ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ لَمَّا اطْمَأَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ طَافَ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنٍ بِيَدِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْكَعْبَةَ فَوَجَدَ فِيهَا حَمَامَةَ عَيْدَانٍ فَكَسَرَهَا ثُمَّ قَامَ عَلَى بَابِ الْكَعْبَةِ فَرَمَى بِهَا وَأَنَا أَنْظُرُهُ

ترجمہ Book - حدیث 2947

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلا م کرنا حضرت صفیہ بنت شیبہ ؓ سے روایت ہے‘انہوں نے فرمایا :فتح مکہ کےسال جب رسول اللہﷺکو(فتح سے متعلق معاملات نپٹا کر) اطمنان حاصل ہوا تو آپ نےاوانٹ پر سوارہو کر طواف کیا۔(اس دو ران میں)نبیﷺاپنے ہاتھ میں موجودچھڑی کے ساتھ استلام کرتے تھے‘پھرآپ کعبہ شریف کے اندرداخل ہوئے تو اس کے اندرکھجور کی لکڑی سے بنی ہوئی ایک کبوتری نظر آئی۔آپ نے اسے توڑ دیا ‘پھر کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر اسے(کعبہ سے باہر)پھینک دیا ۔اور رسول اللہﷺکو (کبوتری کا بت کعبہ با ہر پھینکتے )دیکھ رہی تھی۔ 1۔سواری پر سوار ہو کر طواف کرنا درست ہے لہذااگر کوئی شخص کسی عذر کی وجہ سے ڈولی پر یا پہیوں والی کرسی پر طواف کرے تو طواف درست ہے۔ 2۔طواف کے دوران میں اگر حجر اسود کو ہاتھ لگانا مشکل ہو تو چھڑی وغیرہ لگا کر اسے بوسہ دے دیا جائے تو درست ہے۔ورنہ اشارہ کرلینا کافی ہے۔ 3۔محجن اس عصا یا چھڑی کو کہتے ہیں جس کا ایک سرا مڑا ہوا ہوتا ہے۔ 4۔جاندار چیز کا بت توڑ کر پھینک دینا چاہیے اور تصویر مٹادینی چاہیے۔رسول اللہﷺ نے کعبہ کی دیواروں پر نقش تصاویر کو مٹانے کا حکم دیا تھا۔