Book - حدیث 2938

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الشَّرْطِ فِي الْحَجِّ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ طَاوُسًا وَعِكْرِمَةَ يُحَدِّثَانِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَتْ ضُبَاعَةُ بِنْتُ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ ثَقِيلَةٌ وَإِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أُهِلُّ قَالَ أَهِلِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي

ترجمہ Book - حدیث 2938

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: حج میں شرط لگانا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا:حضرت ضباعہ بنت زبیر ین عند المطلب ؓنے رسول اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا :میں بھاری جسم کی (یا بیمار)عورت ہوں اور میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں۔میں کیسے احرام باندھوں؟رسول اللہﷺنےفرمایا:’’احرام باندھ لو اورشرط لگا لو کہ میں وہیں احرام کھول دوں گی جہاں (اےاللہ)تو مجھے روک لے۔‘‘ 1۔بیمار آدمی حج یا عمرے کی نیت سے سفر کرسکتا ہےاگرچہ بیماری میں اضافے کا خوف ہو۔ 2۔اگر مرض کی وجہ سے یہ خطرہ ہو کہ سفر میں رکاوٹ پیش آجائے گی تو احرام باندھتے وقت مشروط احرام باندھا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ اے اللہ!اگر رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہیں احرام کھول دوں گا۔ 3۔ مشروط احرام باندھ کر کیا ہوا حج یا عمرہ اگر پورا ہوجائے تو یہ عام حج اور عمرے کی طرح ہے اس کے ثواب میں کمی نہیں آئے گی۔ 4۔مشروط احرام کے بعد اگر حج یا عمرہ مکمل کیے بغیر احرام کھول کر ارادہ ختم کرنا پڑجائے تو کوئی کفارہ لازم نہیں آئےگا نہ دم لازم ہوگا نہ صدقہ وغیرہ۔