Book - حدیث 2930

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ صحیح حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَ الْمُحْرِمُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ أَوْ زَعْفَرَانٍ

ترجمہ Book - حدیث 2930

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل باب: احرام والا کون سے کپڑے پہنے ؟ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے ‘انھوں نے فرمایا:’’رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھنے والے کو ورس یا زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا۔‘‘ 1۔احرام کی حالت میں مرد کے لیے سلا ہوا کپڑا پہننا منع ہے۔ 2۔سلے ہوئے سے مراد وہ کپڑا ہے جوسی کر جسم کے مطابق بنایا گیا ہو مثلاً: قمیص شلوار بنیان سویٹر وغیرہ۔اگر ان سلی چادر چھوٹی ہو اور اس کے ساتھ ویسا ہی ٹکڑا سی لیا جائے تاکہ جسم کی ضرورت کے مطابق بڑی چادر بن جائے تو اسے سلا ہوا کپڑا شمار نہیں کیا جاتا ہے۔ 3۔برنس اس کپڑے کو کہتے ہیں جس کے ساتھ سر کو چھپانے والی چیز بھی ہو۔جیسے برساتی کوٹ میں ہوتا ہے۔ 4۔پگڑی اگرچہ سلا ہوا کپڑا نہیں تاہم مرد کے لیے اس کا استعمال بھی ممنوع ہے لہذا ٹوپی کا استعمال بالاولی منع ہوا۔ 5۔سر پر گھٹڑی وغیرہ اٹھانا پہننا نہیں کہلاتا لہذا وہ منع نہیں ہوگا۔ 6۔ ورس ایک پودا ہے ۔نواب وحیدالزمان خان نے اس کا ترجمہ سنگا کی ڈنڈیاں کیا ہے۔اس سے کپڑا رنگا جاتا ہے۔زعفران اور درس سے رنگے ہوئےکپڑوں میں خوشبو پیدا ہوجاتی ہے۔اس لیے احرام میں ایسے کپڑے کا پہننا منع ہے۔